1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وزیرِ اعظم شریف کا خطاب ’’جواب مل گئے یا سوال بڑھ گئے‘‘

وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے تجویز دی ہے کہ پارلیمان ایک کمیٹی بنائے، جو جامع ٹرمز آف ریفرنس تیار کرے اور ان تمام لوگوں کو احتساب کرے، جنہوں نے ٹیکس چرایا ہے یا قرضے معاف کرائے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ میاں نواز شریف بھرپور تیاری کر کے پارلیمان میں آئے تھے۔ انہوں نے حزبِ اختلاف کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے مدلل جواب دینے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم کے بقول یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے گھر والوں نے بہت کم ٹیکس دیا ہے۔ نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ ان کے گھرانے نے تیئس سالوں میں دس ارب روپے ٹیکس کی مد میں دیے ہیں، جب کہ انہوں نے خود بھی تین کروڑ سے زیادہ کا ٹیکس دیا۔


ایک موقع پر رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے وزیرِاعظم کی تقریر کے دوران مداخلت کرنے کی کوشش کی تو اسپیکر نے انہیں جھاڑ پلادی۔ عمران خان کا نام لیے بغیر وزیرِاعظم نے کہا،’’ ہمارا گھرانہ تو تقسیم ہند سے پہلے سے تجارت کر رہا ہے، لیکن وہ جو بڑے اراضی کے گھروں میں رہتے ہیں اور جہازوں میں سفر کرتے ہیں وہ بھی ذرا یہ بتائیں کہ دس بیس سال پہلے وہ کیا کر رہے تھے۔ ان کی ذریعہ آمدنی کیا تھی۔‘‘ جب نواز شریف نے عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کے نشتر چلائے تو ن لیگ کے ارکان نے پھر پور تالیوں سے اپنے قائد کی ہمت بندھائی۔
نواز شریف کے اتحادی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ وہ جامع احتساب کے فارمولے سے بالکل متفق ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’حزب اختلاف نے نواز شریف کے ذرائع آمدنی پر سوالات اٹھائے تھے، آج انہوں نے اس کا جواب دیا۔ پھر اپوزیشن کا یہ کہنا تھا کہ آپ ٹیکس نہیں دیتے یا کم دیتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے اس کی بھی تفصیلات دے دیں۔ پھر حزبِ اختلاف کا یہ کہنا تھا کہ لندن کے فلیٹس کیسے خریدے گئے، اس کی تفصیل بھی اب قوم کے سامنے ہے۔ میرے خیال میں نواز شریف صاحب نے حزبِ اختلاف کو معقول تجویز دی ہے۔ اب وہ حکومت کے ساتھ بیٹھے اور جامع ٹرمز آف ریفرنس تیار کر لے۔ میرے خیال میں ہمیں ایسے قوانین بنانے چاہیں، جن کے تحت سب سے پہلے احتساب عوامی نمائندوں کا ہو۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں حاصل بزنجو نے کہا کہ اگر اب حزبِ اختلاف جامع ٹی او آرز نہیں بناتی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنا نہیں چاہتے۔ اگر انہوں نے احتجاج اور تشدد کا راستہ اپنایا تو پھر ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور جمہوریت کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
کئی تجزیہ نگاروں کے خیال میں وزیرِ اعظم کی تقریر سے صورتِ حال میں بہتری آئے گی۔ قائدِاعظم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکڑ فرحان حنیف صدیقی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’شروع میں اس مسئلے پر بڑا شور شرابہ تھا۔ اسی دوران آرمی چیف نے بھی کچھ افسران کو بر خاست کیا، جس کی وجہ سے لوگوں نے دو مختلف چیزوں کو جوڑنا شروع کر دیا۔ بعد میں آف شور کمپنیوں میں کئی اور لوگوں کا نام بھی آ گیا۔

عمران خان اور شرمین عبید چنائے کی والدہ سمیت تقریبا دو سو ساٹھ کے قریب پاکستانیوں کا نام آیا۔ پاناما لیکس نے یہ واضح کیا کہ آف شور کمپنیاں رکھنا کوئی غیر قانونی نہیں ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ آف شور کمپنیاں ٹیکس بچانے کے لیے کھولی جاتی ہیں، جو اخلاقی طور پر صحیح نہیں ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ ان کمپنیوں میں جو پیسہ ہے وہ کسی شخص کا ذاتی ہے یا پھر عوام کا پیسہ ہے۔ میرے خیال میں کسی بھی کمیشن کو یہ بات ثابت کرنے میں کئی سال لگ جائیں گے کہ آیا پیسہ عوام کا ہے یا کسی شخص کا ذاتی ہے۔ میرے خیال سے اب وزیرِاعظم پر دباؤ کم ہو گا کیونکہ عمران خان کا نام بھی اس میں آ گیا ہے، جس پر ن لیگ اب خوب شور مچائے گی اور خان صاحب کو جو اخلاقی برتری حاصل تھی وہ اب ختم ہو چکی ہے۔‘‘