1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وزیرستان میں ڈرون حملے، 12 گھنٹوں میں 31 ہلاکتیں

افغانستان کے ساتھ ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران مشتبہ امریکی ڈرون حملوں میں کم از کم 31 مبینہ شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں کیے گئے۔ ڈرون حملوں میں درجنوں مشتبہ شدت پسندوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

رپورٹ کے مطابق پہلا ڈرون حملہ پیر کی شب شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں کیا گیا تھا۔ اس حملے میں مبینہ شدت پسندوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں چھ افراد مارے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس حملے کے کچھ ہی دیر بعد قریب ہی ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں 20 مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ مقامی افراد نے مکان کے ملبے سے دس زندہ افراد کو نکالا ہے، جن کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

Anhänger der Tehreek-e-Insaf Bewegung in Pakistan gegen Gewalt

ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان میں عوامی سطح پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے

روئٹرز نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مارے جانے والے تمام افراد عسکریت پسند تھے۔ سرکاری اہلکار مطابق امریکی ڈرون طیارے سےایک قلعہ نُما مکان پر چار میزائل فائر کیے گئے تھے۔

ان حملوں کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی شب جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملہ کیا گیا، جہاں رپورٹ کے مطابق ایک گاڑی میں سوار پانچ مبینہ عسکریت پسند مارے گئے۔ روئٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ سے اب تک ڈرون حملوں میں قریب 90 مبینہ عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈرون حملوں کے معاملے پر اسلام آباد حکومت نے متعدد بار امریکہ سے احتجاج کیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM