1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وزیرستان میں فوجی آپریشن اپنے وقت پر، جنرل ملک

امریکہ کے مسلسل دباﺅ اور پاکستانی فوجی قیادت کے وزیرستان میں طالبان کی کارروائیوں سے متعلق اعتراف کے باوجود پاکستان اس قبائلی علاقے میں باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

default

وزیرستان کے قبائلی علاقے کا فضائی منظر

پاکستانی سول اور فوجی قیادت بارہا یہ باور کرا چکی ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کسی کے اشارے پر نہیں بلکہ صرف اپنی مرضی سے کیا جائے گا۔ پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان شمالی وزیرستان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن وہاں شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے لئے وقت اور حالات کا تعین خود کیا جائے گا۔

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کے حمایت یافتہ طالبان کے حقانی نیٹ ورک کی شمالی وزیرستان میں موجودگی کے باعث فوج کے لئے وہاں آپریشن کا فیصلہ آسان نہیں ہے۔ تاہم بعض تجزیہ نگار اس نقطہ نظر سے متفق نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ فوج ایک حکمت عملی کے تحت وزیرستان آپریشن میں تاخیر کر رہی ہے۔

Pakistan zerstörtes Haus in Waziristan

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کاہدف بننے والی ایک عمارت جو طالبان کے زیر استعمال تھی

اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے تجزیہ نگار بریگیڈیئر اسد منیر نے کہا: ’’القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک تو جنوبی وزیرستان میں بھی تھا۔ لیکن اس وقت بھی آپریشن کیا گیا۔ اس لئے یہ بات نہیں، بلکہ شمالی وزیرستان میں بڑا آپریشن ہوگا اور اس لئے فوج کی حکمت عملی یہ ہے کہ پہلے اس سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں اور لوگوں کو محفوظ کیا جائے۔ دہشت گردوں کے آنے کی جگہ سینٹرل کرم، اورکزئی، تیراہ اور درہ کے علاقے ہیں۔‘‘

دوسری جانب پاکستانی فوج اورکزئی ایجنسی میں طالبان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور وہاں بڑے پیمانے پر اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر بھی قبضے میں لئے گئے ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے دوران وہاں سے فرار ہونے والے شدت پسندوں نے اورکزئی ایجنسی میں پناہ لی ہے۔ ان شدت پسندوں میں زیادہ تعداد غیر ملکی عسکریت پسندوں کی ہے۔

صوبائی حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر ہاشم بابر کا کہنا ہے کہ اورکزئی ایجنسی میں فوجی آپریشن حکومت کی مرضی سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’اورکزئی ایجنسی میں آپریشن اس لئے ضروری ہو گیا کہ کئی عسکریت پسند لیڈروں اور شدت پسندوں نے وہاں پناہ لی، جس کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال پر بھی اثر پڑا ہے اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کی منصوبہ بندی بھی وہیں سے کی جا رہی ہے۔ میری رائے میں اورکزئی ایجنسی کا علاقہ اس وقت دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔‘‘

دریں اثناء پاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بدھ کے روز میزائلوں سے کئے گئے دو مبینہ امریکی ڈرون حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس