1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وزیرستان میں امریکا کا ایک اور ڈرون حملہ

شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ کے قریب آج ایک اور ڈرون حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ۔

default

پاکستانی انٹیلی جنس حکام کے مطابق امریکی جاسوس طیارے سے حملہ افغانستان اور پاکستان کے باڈر کے قریب ایک چلتی گاڑی پر کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر شدت پسند موجود تھے۔

Karte Pakistan mit Waziristan

پاکستانی حکام کے مطابق رواں برس کے دوران وزیرستان میں ایک سو کے قریب ڈرون حملے کئے گئے

یہ حملہ امریکہ کی جانب سے القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں کو ڈھونڈنے اور ان کے خلاف کاروائی میں مزید تیزی لانے کے مشن کا ایک حصہ تھا، جس کے تحت پاکستان میں ایک ہفتے کے دوران دوسری بار یہ کارروائی کی گئی ہے۔ حملے میں ہلاک ہو جانے والوں کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

حملے کے بارے میں پاکستانی سکیورٹی حکام کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی جاسوس طیارے سے دو میزائل داغے گئے تھے، جس کے نتیجے میں کم سے کم تین عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق طالبان اور القاعدہ کے حقانی نیٹ ورک سے بتایا گیا ہے۔ حقانی گروپ پر الزام ہے کہ وہ افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں متعین امریکی افواج پر خودکش حملوں کے علاوہ یورپ کے بعض ممالک میں بھی دہشت گردانہ حملوں کے منصوبے بنانے میں ملوث ہے۔

Afghanistan / US-Soldaten / Helmand

پاکستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ امریکہ کی جانب سے پاکستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ 1994 سے شروع ہوا

اس سے تین دن پہلے بھی امریکی جاسوس طیارہ میران شاہ میں حملہ کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں پندرہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکہ کے مطابق جاسوس طیاروں کے حملے القاعدہ اور اس کے دیگر اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں میں نہایت مؤثر ثابت ہو رہے ہیں اور اب تک کئی مطلوبہ اہدف، جن میں پاکستانی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود بھی شامل ہیں،کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

آج کا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب امریکی صدر باراک اوباما اور نیٹو ممالک کے سربراہان پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں جمع ہیں تاکہ 2014ء تک افغانستان میں امن و امان کی ذمہ داری وہاں کی مقامی فورسز کو منتقل کرنےکی تاریخ مقرر کی جائے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM