1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وزیرستان آپریشن پر گیلانی کا بیان اور وضاحتیں

پاکستان کی تازہ سیکیورٹی صورتحال میں عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان موجود فاصلوں کا اندازہ جنوبی وزیرستان آپریشن کے بارے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے متضاد بیانات سے ہوتا ہے۔

default

انہوں نے ہفتہ کو جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ تاہم بعدازاں ایک وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ آپریشن تا حال جاری ہے۔

'جنوبی وزیرستان میں آپریشن کامیابی سے جاری ہے اور عسکریت پسندوں کے مضبوط ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ ہماری فوج الرٹ ہے اور جہاں جہاں سے بھی حکومتی رٹ کو چیلنج کیا جائے گا، ضرورت پڑنے پر فوج وہاں آپریشن کرے گی۔'

وزیراعظم نے یہ باتیں اتوار کو دورہ ملتان کے موقع پر کہیں۔ ان کا یہ وضاحتی بیان اعلیٰ ترین عسکری ذرائع کے ان تحفظات کے اظہار کا نتیجہ ہے، جن کے مطابق جنوبی وزیرستان میں آپریشن ختم نہیں ہوا بلکہ اس کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا ہے، جس میں عسکریت پسندوں سے حاصل کئے گئے آبادی والے تمام علاقوں کا انتظام سنبھال کر ان کے اطراف دہشت گردوں کی تلاش اور ان کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس بھی اسلام آباد پہنچ رہے ہیں اور ان کا بظاہر مقصد نئی امریکی پالیسی کے حوالے سے پاکستانی تحفظات کو دور کرنا ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے بھی واضح کیا ہے کہ تحفظات دور کئے بغیر اور پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر نئی امریکی افغان پالیسی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

'ہم امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس اور دفاعی تعاون کے فروغ کےلئے کوشاں ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے پاک امریکہ پالیسی ایک ہونی چاہئے ،کامیابی اسی صورت ممکن ہوسکتی ہے کہ افغانستان پالیسی میں پاکستان کے تحفظات کو پیش نظر رکھا جائے۔'

Flash-Galerie Pakistan

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے ساتھ

یکم دسمبر کو امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان میں مزید تیس ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد پاکستانی فوجی اور سویلین قیادت نے مسلسل اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ خاص طور پر پکتیکا اور ہیلمند میں امریکی فوجی کارروائیوں سے دہشت گرد قبائلی علاقوں کا رخ کر کے پاکستان کےلئے مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM