1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وزیراعظم گیلانی کی بلوچ رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کی کوشش

بلوچستان کے لئے صرف امدادی پیکج کے اعلان سے ہی بلوچ عوام کی ناراضگی دور نہیں ہو گی ۔ یہ رقم تو کرپٹ حکمران ہی کھا جائیں گے۔ بلوچ رہنماء وزیر جوگیزئی

default

وزیراعظم نے بلوچ رہنماؤں سے طویل ملاقات میں مجوزہ امداد پیکج پر اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔

فاٹا کی سات ایجنسیوں اور پشاور سمیت ان سے ملحقہ کئی اضلاع میں جاری شورش اور تشدد کی لہر کے باعث صوبائی اور وفاقی حکومتیں اہم سماجی اور اقتصادی اصلاحات ایسے امور پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے سکی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ فروری 2008ء کے انتخابات سے اب تک بلوچستان کے سیاسی سماجی حالات میں بہتری کی غرض سے قائم کی گئی پارلیمانی کمیٹی بھی تاحال اپنا کام مکمل نہیں کر سکی ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے کمیٹی کے قیام کے وقت بلوچستان کے احساس محرومی کے خاتمے کو اہم ترین مقصد قرار دیا تھا تاہم کمیٹی کی طرف سے سست روی کے مظاہرے کے بعد اکثر بلوچ رہنما وفاقی حکومت سے شاکی رہے اور انصاف کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں وزیراعظم نے سوموار کے روز بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ کئی گھنٹے پر محیط ملاقات میں آئینی اور اقتصادی اصلاحات کے مجوزہ پیکج پر انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کو کئی بلوچ نمائندوں کی تند و تیز باتیں سننے کو ملیں۔ تاہم وزیراعظم گیلانی نے انہیں یقین دلایا کہ مجوزہ پیکج ان کے تمام تحفظات اور شکوے شکایات دور کر دیئے جائیں گے اور یہ کہ اس حوالے سے صدر زرداری جلد ہی اعلان کریں گے۔

معروف بلوچ رہنماء وزیر جوگیزئی نے بلوچستان کےلئے مجوزہ حکومتی پیکج اور وزیراعظم کی بلوچ پارلیمنٹیرین کے ساتھ ملاقاتوں کے حوالے سے کہا کہ حکومت کےلئے اصل چیلنج ناراض بلوچ رہنمائوں کو راضی کرنا ہے'' بلوچ قوم کی ناراضگی اس طرح سے دور نہیں ہو گی کہ حکومت اسلام آباد میں بیٹھ کر یہ اعلان کر دے کہ بلوچستان کو اتنے ارب روپے دے دیئے ہیں۔ یہ امداد کیا کرے گی یہ رقم تو کرپٹ حکومت کھا پی کے برابر کر دے گی اس سے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘

Unruhen in Pakistanischen Grenzgebieten

بلوچ رہنما برسوں سے گیس کی رائیلپٹی کا مطالبۃ کر رہے ہیں اور حکومت باغی بلوچوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے۔

تاہم وفاقی وزیر ڈاکٹر بابراعوان نے اجلاس کے بعد دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے تمام سیاسی عناصر کو اعتماد میں لیا جائے گا'' تمام سیاسی ، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے قائدین جو پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں یا پارلیمنٹ میں موجود نہیں ، بلوچستان میں ہیں یا بلوچستان سے باہر ہیں، ملک میں موجود یا بیرون ملک ہیں کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کو اعتماد میں لے کر یہ پیکج سامنے لایا جائے گا۔‘‘

سوموار کے روز وزیراعظم اور بلوچ رہنمائوں کی ملاقات سے قبل پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی اور دوسرے کئی وزراء دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اصلاحات پیکج کے ذریعے بلوچستان کے برس ہا پرانے شکوے شکایات دور ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں پر نیا ترقیاتی اور سیاسی اصلاحات کا عمل شروع کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

رپورٹ: امتیاز گل

ادارت: عدنان اسحاق