1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وزیراعظم کے خلاف ثبوت ناکافی، مزید تحقیقات کا حکم

پاکستانی سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے حوالے سے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں اور انہیں ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد برسر اقتدار مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے وزیر اعظم نواز شریف کی فتح قرار دیا ہے جبکہ وزیراعظم کو ان کی پارٹی کے رہنماؤں کی طرف مبارکبادیں دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر اندر ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم  (جوائنٹ انویسٹی گيشن ٹيم) تشکیل دی جائے، جو دو ماہ کے اندر اندر اپنی تحقیقات مکمل کرے گی۔ فیصلے کے مطابق جوائنٹ انویسٹی گيشن ٹيم میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی اور  ایم آئی کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

 اس جے آئی ٹی کی یہ ذمہ داری بھی ہو گی کہ وہ اس بات کا پتہ چلائے کہ شریف خاندان نے پاکستان سے قطر پیسے کیسے منتقل کیے۔ فیصلے کے مطابق وزیراعظم اور ان کے دو بیٹوں سے بھی تحقیقات کی جائیں۔

Pakistan Polizisten vor Oberster Gerichtshof in Islamabad (Reuters/F. Mahmood)

یہ فیصلہ آنے سے پہلے پاکستان اور خاص طور پر اسلام آباد کی سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی

یہ فیصلہ آنے سے پہلے پاکستان اور خاص طور پر اسلام آباد کی سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ کسی ممکنہ حملے یا پھر کسی گروپ کی جانب سے غیر متوقع احتجاج سے نمٹنے کے لیے ہائی کورٹ کے اردگرد پندرہ سو پولیس کمانڈوز تعینات کیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے سنایا جانے والا فیصلہ پانچ سو چالیس صفحات پر مشتمل ہے۔ اسی وجہ سے فیصلے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔