1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وزیراعظم نواز شریف کا دورہ امریکا کامیاب رہا یا ناکام؟

حکومتی عہدیدار اور بعض تجزیہ کار وزیراعظم کے دورے کو کامیاب اور دور رس نتائج کا حامل قرار دے رہے ہیں جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اسے مایوس کن قرار دیا ہے۔ وزیراعظم کہاں کامیاب رہے اور کہاں ناکام؟ جانیے اس رپورٹ میں!

پاکستانی وزیر اعظم کے ہمراہ دورہ واشنگٹن میں موجود وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا دورہ اور خصوصاﹰ صدر اوباما سے ملاقات اس اعتبار سے اہم تھی کہ تمام امور پر کھل کر پاکستان کے موقف کی وضاحت کی گئی۔

ڈی ڈبلیو کے ساتھ فون پر انٹرویو میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ،خطے کی صورتحال، پاک افغان تعلقات، پاکستان اور بھارت کے موجودہ تعلقات سمیت تجارت،سائنس و ٹیکنالوجی اور دفاع سمیت تقریباﹰ ہر شعبے میں تعاون پر مثبت بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال سے دوطرفہ تعلقات کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو، جس پر بات نہ ہوئی ہو۔ انہوں نے ہمیں سنا اور ہم نے ان کی سنی، جو بھی معاملات یا مسائل تھے ان پر تبادلہ ء خیال ہوا اور آپ نے دیکھا ہو گا کہ کشمیر سمیت تمام اہم معاملات مشترکہ اعلامیے میں موجود تھے اور میرے خیال سے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ صدر اوباما اور وزیر اعظم کے درمیان ملاقات طے شدہ وقت سے زائد یعنی دو گھنٹے جاری رہی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں رہنماوں نے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

بھارت کی طرز پر امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے کی پاکستانی کوششوں کے نتائج سامنے نہ آنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا، ’’ملکوں کے درمیان تعلقات میں بعض معاملات پر بہت سا کام ہو چکا ہو تا ہے اور کچھ کرنا باقی ہوتا ہے اور وہ کسی بھی وقت مکمل ہو جاتا ہے۔ اس معاملے میں بھی امریکا پاکستان کے موقف کو سمجھتا ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ ہماری حالیہ ملاقاتوں کے بعد مزید اس بارے میں سوچیں گے۔‘‘

دفاعی امور کے تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے دورہ امریکا اور صدر اوباما کے ساتھ ملاقات کو سفارتی لحاظ سے ایک اچھا دورہ کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے معاملات میں بہتری کی گنجائش تو موجود رہتی ہے لیکن ان کے خیال میں موجودہ حالات میں وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے بہتر طریقے سے پاکستان کا موقف پیش کیا۔

طلعت مسعود کا کہنا تھا، ’’پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اونچ نیچ اور اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے لیکن ایسے دوروں سے دونوں جانب کی قیادت کو آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے، جس سے بہت سی بدگمانیاں اور غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں اور تعلقات کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سربراہی دوروں اور دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے کیے جانیوالے اقدامات کے فوری نتائج کم ہی ہوتے ہیں۔ اصل میں ان کے نتائج آنے میں وقت لگتا ہے۔

دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے امریکی صدر باراک اوباما اور وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان ملاقات کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نعیم الحق نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم اس اہم ترین دورے میں پاکستان کے لیے خاطر خواہ ثمرات سمیٹنے میں ناکام رہے۔

امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری کے باوجود نوازشریف پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق امریکی رویہ بدلنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بتائے کہ ٹیکسٹائل مصنوعات کے کوٹے میں اضافے کے دیرینہ پاکستانی مطالبے کا امریکی صدر نے کیا جواب دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ بھی بتایا جائے کہ سندھ میں کوئلے کے ذخائر کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر امریکی تحفظات کس حد تک دور کیے جاسکے؟

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم تمام تر شواہد کے باوجود بظاہر بھارتی اشتعال انگیزیوں کے بارے میں امریکی انتظامیہ کو آگاہ کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم امریکا کے ساتھ بھارت کی طرز کا سول جوہری معاہدہ کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں کشمیر کا ذکر بھی رسمی انداز میں کیا گیا اور تنازع کے حل میں امریکا کے فعال کردار پر بھی کوئی یقین دہانی حاصل نہیں کی گئی۔

تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان کی اندرونی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کے دورے سے زیادہ آئندہ ماہ پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دورے کا منتظر ہے۔