1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’وزیراعظم برائے فروخت‘ کے سوشل میڈیا پر چرچے

جمعرات کے روز ایک نامعلوم صارف نے خرید و فروخت کی ویب سائٹ ای بے پر ’ناکارہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف برائے فروخت‘ کے نام سے نوازشریف کی تصویر لگا کر کسی چیز کی طرح بولی کے رکھ دیا۔

اس پوسٹ کے بعد اس پر آن لائن بولیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جو جمعرات کو نوے ہزار تک پہنچ چکا ہے۔ اس نامعلوم صارف اور اس پر اس طرح کی بولیوں سے پاناما پیپرز میں نواز شریف کے اہل خانہ کے نام سامنے آنے پر عوامی غصے کا اظہار بھی دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد جمعرات کو سوشل میڈیا سائٹس پر وزیراعظم برائے فروخت (PMforsale) کا ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔

ٹوئٹر پر ایک صارف اظہر علی کا کہنا تھا، ’’حیرت ہے اتنے پیسے اس کے لیے کون ادا کرنا چاہتا ہے؟‘‘

ایک اور صارف طاہر آفریدی کا کہنا ہے، ’دعا ہے کہ یہ ٹرینڈ حقیقت بن جائے۔‘‘

ایک صارف سمیرا جمیل نے ملک میں ’سائبر جرائم‘ سے متعلق ممکنہ قانون سازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’ایک خریدیے ایک مفت پائیے۔ سائبر جرائم کا بل ہی نواز حکومت کی اوقات تھی۔‘‘

ادھر فیس بک پر بھی وزیراعظم برائے فروخت کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مختلف پوسٹ گردش کرتی رہیں۔ کوہاٹ یوتھ کے نام سے ایک صارف نے ای بے کی اسی بولی اور نواز شریف کے انتخابی نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے، ’قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ دلچسپی رکھنے والے خریدار وہی ہوں گے، جن کا دماغ نہیں اور خود پرستی کا شکار ہیں۔‘‘

پاکستان میں جمعرات کے روز سائبر کرائم بل نامنظور کا ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔ جب کہ مختلف افراد نے یہ بل پیش کرنے پر حکومت پر کڑی تنقید کی۔