1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

وزٹ ویزوں پر یورپ پہنچانے والا اسمگلروں کا گروہ گرفتار

فرانس اور جرمنی کی پولیس نے ایک مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایک گروہ کے متعدد ارکان گرفتار کر لیے ہیں۔ گروہ کے تمام افراد کا تعلق بھارت سے ہے اور وہ ویزٹ ویزے لگوا کر لوگوں کو یورپ لا رہے تھے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث ایک گروہ سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کو آج گیارہ اکتوبر بروز منگل پیرس اور اس کے نواحی علاقوں میں مارے گئے چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔ فرانسیسی اور جرمن پولیس کے مطابق فرانس سے گرفتار کیے گئے انسانوں کے سبھی مبینہ اسمگلروں کا تعلق بھارت سے ہے۔

پاکستان: انسانوں کی اسمگلنگ سالانہ قریب ایک ارب ڈالر کا کاروبار

جرمنی: پناہ کا فیصلہ کرنے والوں کی اکثریت اہلیت نہیں رکھتی

یہ لوگ بھارتی شہریوں کو جعلی دستاویزات کی مدد سے وزٹ ویزے پر کسی یورپی ملک میں لے آتے تھے اور پھر انہیں شینگن زون کے کسی دوسرے ملک میں منتقل کر کے انہیں غیرقانونی طور پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتے تھے۔

ایسی ہی جعلی دستاویزات کی مدد سے ان اسمگلروں نے بھارت سے تعلق رکھنے واگے آٹھ خاندانوں کو فرانس کے سیاحتی ویزے لگوا کر بلایا اور بعد ازاں انہیں جرمن شہر ڈریسڈن منتقل کر دیا۔ ان بھارتی خاندانوں کو ڈریسڈن میں نوکریاں بھی مہیا کی گئی تھیں۔

پیرس اور اس کے نواحی علاقوں میں آج مارے گئے چھاپوں کے دوران چھ اسمگلروں کی گرفتاری کے فوری بعد ڈریسڈن میں مقیم آٹھ بھارتی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے سبھی افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اس کارروائی میں یوروپول نے بھی حصہ لیا۔

فرانس اور جرمنی کی پولیس کے مطابق انسانوں کے ان اسمگلروں نے ان خاندانوں کے لیے وزٹ ویزے حاصل کرنے کے لیے بینکوں کی جعلی دستاویزات بھی تیار کی تھیں جن میں ان افراد کی آمدنی کو بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا تھا۔ سیاحتی ویزے پر فرانس آنے والے افراد کو غیر قانونی طور پر جرمنی کے علاوہ پرتگال بھی منتقل کیا گیا۔

’لا پیریسین‘ نامی فرانسی اخبار کی رپورٹوں کے مطابق انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والا یہ گروہ بھارت کے مغربی صوبے گجرات میں سرگرم تھا۔ اپنے ہم وطنوں کو یورپ اسمگل کرنے کے عوض بھاری رقوم بھی حاصل کرتا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق یہ اسمگلرز لوگوں کو یورپ لانے کے لیے ایک فرد سے سات ہزار، جوڑے سے دس ہزار اور ایک خاندان سے پچیس ہزار یورو بطور فیس وصول کیا کرتے تھے۔

’مہاجرین کو متبادل سفری دستاویزات کے ذریعے ملک بدر کیا جائے‘

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

DW.COM