1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

وزارت کے بعد اور بھی زیادہ انکساری: سعیدہ وارثی

برطانیہ کی پہلی مسلم خاتون وزیر بیرونس سعیدہ وارثی نے جمعرات کو وزیر اعظم کیمرون کی کابینہ کے اولین اجلاس کے بعد کہا کہ حکومت میں شمولیت کے بعد ان میں اور بھی عاجزی اور انکساری آ گئی ہے۔

default

سعیدہ وارثی نئی کابینہ کے پہلے اجلاس کے لئے ڈاؤننگ سٹریٹ جاتے ہوئے

برطانیہ میں چھ مئی کے پارلیمانی انتخابات کے بعد قدامت پسندوں کی قیادت میں ایک طویل عرصے بعد جو نئی مخلوط حکومت قائم ہوئی ہے، اس کے سربراہ ٹوری رہنما ڈیوڈ کیمرون ہیں اور انہوں نے اپنی کابینہ میں بیرونس سعیدہ وارثی نامی جس سیاستدان کو شامل کیا ہے، وہ برطانیہ کی پہلی مسلمان خاتون وزیر بھی ہیں اور پارلیمانی ایوان بالا ہاؤس آف لارڈز کی رکن بھی۔

لندن میں کیمرون حکومت دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ میں قائم ہونے والی پہلی مخلوط حکومت ہے، جس میں شامل سعیدہ وارثی کنزرویٹو پارٹی کی چیئر پرسن بھی ہیں تاہم وزیر کے طور پر انہیں ابھی کوئی وزارت نہیں دی گئی۔

Flash-Galerie Wahl in Großbritannien Thronrede Königin Elisabeth II.

برطانیہ میں پارلیمانی سال کا آغاز ہاؤس آف لارڈز میں ملکہ کے روایتی خطاب سے ہوتا ہے

ملکہ ایلزابیتھ کی طرف سے وزیر اعظم نامزد کئے جانے کے دو روز بعد ڈیوڈ کیمرون نے لندن میں اپنی سرکاری رہائش گاہ دس ڈاؤننگ سٹریٹ پر جمعرات کو اپنی کابینہ کے جس اولین باقاعدہ اجلاس کی صدارت کی، اس کے بعد سعیدہ وارثی نے کہا کہ حکومت میں شمولیت کی صورت میں اپنے فرائض انجام دے سکنا کسی بھی انسان کے لئے عزت کی بات ہے اور وہ خود بھی یہی محسوس کرتی ہیں۔

بیرونس سعیدہ وارثی نے کیمرون کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں کہا: ’’اپنے صنعتی پیداواری اداروں کے لئے مشہور یارک شائر میں ایک فیکڑی میں کام کرنے والے ایک تارک وطن کے گھر میں پیدا ہونا، اورپھر برطانوی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر ملکی کابینہ کا رکن بننا ایک ایسی عزت ہے، جس کے باعث میں اپنی ذات میں اور بھی زیادہ عاجزی اور انکساری کے جذبات محسوس کر سکتی ہوں۔‘‘

پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل اور نسلی طور پر پاکستانی نژاد 39 سالہ سعیدہ وارثی خود کو شمالی برطانیہ کی ایک ایسی خاتون قرار دیتی ہیں، جس کی جڑیں سماجی طور پر محنت کش طبقے سے جڑی ہیں اور جو ایک ماں بھی ہے۔

بیرونس سعیدہ وارثی کے بقول انہوں نے کنزرویٹو پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ اپنے والد سے متاثر ہو کر کیا تھا۔ ان کے والد نے برطانیہ میں اپنے روزگار کا آغاز ایک فیکٹری کارکن کے طور پر کیا تھا لیکن بعد میں ترقی کرتے کرتے بیڈ تیار کرنے والے ایک بہت کامیاب صنعتی پیداواری ادارے کے مالک بن گئے۔

House of Commons Großbritannien

لندن میں دارالعوام کے اجلاس کی ایک تصویر

بیرونس سعیدہ حسین وارثی 1971 میں انگلینڈ میں ڈیوزبری کے مقام پر پیدا ہوئیں، لیڈز یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لینے کے بعد انہوں نے برطانوی وزارت داخلہ میں تارکین وطن سے متعلقہ شعبے میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں انہوں نے ڈیوزبری ہی میں اپنی ایک لیگل فرم جارج وارثی سولیسیٹرز قائم کر لی تھی۔

سعیدہ وارثی کی سیاسی ترجیحات میں نسلی مساوات، جبری شادیوں کے خلاف جدوجہد اور جیلوں میں قیدیوں کے لئے حالات کو بہتر بنانے کی کوششوں کو اہم مقام حاصل ہے۔

وہ جبری شادیوں کے خلاف ایک ایسے تحقیقی منصوبے کے تحت ایک ماہر کے طور پر پاکستان میں وفاقی وزارت قانون کے ساتھ مل کر کام بھی کر چکی ہیں، جسے پاکستان میں خواتین کے لئے زیادہ سماجی اختیارات کی جدوجہد کرنے والی سویرا فاؤنڈیشن کا تعاون حاصل تھا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM