1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ورکرز کی فوکوشیما کے ری ایکٹر نمبر 1 میں واپسی

جاپانی حکام نے بتایا ہے کہ گیارہ مارچ کے زلزلے اور سونامی کے بعد فوکوشیما کے متاثرہ جوہری پاور پلانٹ کے جس ری ایکٹر میں دھماکہ ہوا تھا، جمعرات پانچ اپریل کو دو ورکرز پہلی مرتبہ واپس اُس ری ایکٹر کی عمارت کے اندر گئے ہیں۔

متاثرہ فوکوشیما جوہری پلانٹ

متاثرہ فوکوشیما جوہری پلانٹ

فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر کے مجموعی طور پر چار ری ایکٹر متاثر ہوئے تھے تاہم یہ ورکرز ری ایکٹر نمبر ایک میں داخل ہوئے تاکہ وہاں تابکاری کی سطح کا اندازہ لگا سکیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان کارکنوں نے گیس ماسک اور حفاظتی لباس پہنے ہوئے تھے اور اُنہوں نے اپنی کمر پر آکسیجن کی ٹینکیاں باندھ رکھی تھیں۔

اِس جوہری پلانٹ کا انتظام چلانے والی ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی ٹیپکو کے ایک ترجمان ساتوشی واتانابے نے کہا: ’’دھماکے کے بعد سے ہمارے پلانٹ ورکرز ری ایکٹر کی اِس عمارت میں پہلی مرتبہ داخل ہوئے ہیں۔‘‘ پروگرام کے مطابق ٹیپکو جمعرات کو مجموعی طور پر کم از کم بارہ کارکنوں کو عمارت کے اندر بھیجنے کا پروگرام بنا رہی ہے تاکہ وہ وہاں ہوا کی آمد و رفت کا وہ نظام نصب کر سکیں، جس کا مقصد ری ایکٹر کے اندر کی ہوا میں تابکاری کی سطح میں کمی کرنا ہے۔

ٹیپکو کے ورکرز متاثرہ ری ایکٹر کا کولنگ سسٹم درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، فائل فوٹو

ٹیپکو کے ورکرز متاثرہ ری ایکٹر کا کولنگ سسٹم درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، فائل فوٹو

واتانابے نے کہا:’’ہم چھوٹے چھوٹے گروپوں کو زیادہ سے زیادہ دَس منٹ کے لیے اندر بھیج رہے ہیں تاکہ اُنہیں جس تابکاری کا سامنا کرنا پڑے، وہ محدود ہو‘‘۔ جمعرات کو ہی اِس نظام کی تنصیب کا کام مکمل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے تک اس ری ایکٹر کی عمارت میں داخلے کو انسانی صحت کے لیے حد سے زیادہ خطرناک تصور کیا جا رہا تھا۔

اِس کے بعد ٹیپکو اِس ری ایکٹر کے باہر اِسے ٹھنڈا کرنے کے ایک نئے نظام کی تعمیر شروع کرے گی، جس میں پانی کے پائپوں کو باہر نصب اُن آلات کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا، جو حرارت کی تبدیلی کو کنٹرول کرتےہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق ٹیپکو ری ایکٹر کو ٹھنڈا رکھنے کے اِس نظام کی تعمیر مئی کے اواخر یا جون کے اوائل تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انجینئرز سالِ رواں کے آخر تک حالات کو مستحکم کرنے میں کامیابی کی توقع کر رہے ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس