’ورلڈ یوتھ ڈے‘ کا اختتام، دس لاکھ سے زائد مسیحیوں کی شرکت | حالات حاضرہ | DW | 31.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ورلڈ یوتھ ڈے‘ کا اختتام، دس لاکھ سے زائد مسیحیوں کی شرکت

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے یورپی ملک پولینڈ میں ’ورلڈ یوتھ ڈے‘ کے اختتام پر دنیا بھر سے آئے ہوئے دس لاکھ سے زائد زائرین سے خطاب میں کہا ہے کہ اُس انسانیت پر یقین رکھا جائے جو بدی سے زیادہ طاقت ور ہے۔

اتوار کے روز پوپ فرانسس کا لاکھوں مسیحی نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اس نئی انسانیت پر یقین رکھو جو بدی سے زیادہ طاقت ور ہے اور سرحدوں کو رکاوٹیں تسلیم نہیں کرتی۔‘‘ پولینڈ کے دورے میں تمام میڈیا کی نظریں پوپ فرانسس پر ہی مرکوز تھیں۔ جمعے کو وہ نازی دور کے سابق اذیتی کیمپ آؤشوٹس بھی گئے تھے۔

ورلڈ یوتھ ڈے کے منتظمین کے مطابق اتوار کے روز پوپ فرانسس کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے گزشتہ روز ہی زائرین کراکوف شہر کے مضافاتی میدان میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے اور ہزاروں افراد نے گزشتہ رات کھلے آسمان تلے گزاری۔ منتظمیں کے مطابق آج کے اس تہوار میں تقریبا سولہ لاکھ افراد شریک تھے جب کہ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے زائرین کی تعداد دس لاکھ سے زائد بتائی ہے۔

Polen Weltjugendtag Papst Franziskus in Krakau

پوپ فرانسس کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر کے ملکوں سے نوجوان پولینڈ پہنچے تھے

پوپ فرانسس کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر کے ملکوں سے نوجوان پولینڈ پہنچے تھے۔ میکسیکو کے اسحاق وکٹوریا کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یہ میری زندگی کا اہم ترین سفر ہے، نہ صرف میرے لیے بلکہ میرے پورے خاندان کے لیے۔‘‘

ہفتے کی شام پوپ فرانسس کا نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں ایک فعال زندگی گزارنا چاہیے۔ ان کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ سست اور اونگھنے والے بچے، جو صوفے پر بیٹھ کر ٹیلی وژن دیکھنے کو خوشی سمجھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ایک فعال زندگی گزاریں نہ کہ اپنے اسمارٹ فونز کے ساتھ چپکے رہیں۔

پوپ فرانسس کا نوجوانوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ امن، مصالحت اور انصاف کے لیے کام کریں۔

اپنے پانچ روزہ دورے کے آغاز پر پوپ فرانسس نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا تھا کہ بعض لوگ یا ملک غربت اور جنگ سے بھاگ کر آنے والے مہاجرین کو خوش آمدید کہنے سے گریزاں ہیں۔ پوپ فرانسس کا یہ بیان اس وجہ سے بھی انتہائی اہم تھا کہ پولینڈ کی حکومت نے نئے آنے والے مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ان کے ہاں پہلے ہی یوکرائین کے بہت سے مہاجرین موجود ہیں۔

ہر تین برس بعد ہونے والے ورلڈ یوتھ ڈے کا یہ انتیسواں اجتماع تھا۔ اس کا آغاز پوپ جان پال دوئم نے کیا تھا اور اس کا پہلا اجتماع 1986ء میں روم میں ہوا تھا۔ تب سے ہی تیرہ اجتماعات دنیا بھر میں مختلف شہروں میں ہو چکے ہیں، جن میں پچھلے برس کا برازیل کا اجتماع بھی شامل ہے۔ آئندہ اجتماع 2019ء میں پاناما میں ہوگا۔