ورلڈ ہيومينيٹيرين سمٹ : اميديں ان گنت، نتائج کا امکان محدود | مہاجرین کا بحران | DW | 11.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ورلڈ ہيومينيٹيرين سمٹ : اميديں ان گنت، نتائج کا امکان محدود

رواں برس مئی ميں ترک شہر استنبول ميں پہلی ’ورلڈ ہيومينيٹيرين سمٹ‘ کا انعقاد ہو رہا ہے۔ امدادی گروپ توقع کر رہے ہيں کہ اس سربراہی اجلاس کی بدولت حکومتيں اور ادارے انسانی جانوں کو بچانے ميں زيادہ فعال کردار ادا کريں گے۔

ورلڈ ہيومينيٹيرين سمٹ ميں حکومتوں، اقوام متحدہ کی ذيلی ايجنسيوں، امدادی تنظيموں اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی کمپنيوں پر زور ديا جائے گا کہ وہ عالمی سطح پر بحرانوں سے بہتر انداز ميں نمٹنے کے ليے منصوبوں کا حصہ بنيں۔ منتظمين نے اقوام متحدہ کی جانب سے ريکارڈ 20.1 بلين ڈالر فنڈنگ کے مطالبے کو پورا کرنے کے ليے بھی ديرپا اور مسلسل فنڈنگ کے ذرائع پر زور ديا ہے۔

امدادی تنظيموں سے منسلک رضاکاروں کا ايک اہم مطالبہ يہ ہے کہ شام اور يمن جيسے شورش زدہ ملکوں ميں جہاں سفارت کاری ناکام ہو چکی ہے، فريقين کو اس پر رضامند کيا جائے کہ انسانی جانوں کو بچانے کے ليے متعلقہ قوانين کا احترام کيا جائے اور متاثرين تک امداد کی فراہمی ميں رکاوٹيں دور کی جائيں۔ اس سربراہی اجلاس کے سربراہ انٹوئن جيرارڈ نے خبر رساں ادارے تھومسن روئٹرز فاؤنڈيشن کو اپنے ايک انٹرويو ميں بتايا کہ يہ سمٹ امدادی سرگرميوں سے منسلک افراد کے ليے ايک اہم موڑ ثابت ہو گی۔

يہ امر اہم ہے کہ ديگر سربراہی اجلاسوں کی طرح اس سمٹ کے نتائج پر عملدرآمد لازمی نہيں ہو گا۔ اس پر متعدد گروپوں کی جانب سے تشويش کا اظہار کيا گيا ہے، جن کا کہنا ہے کہ کئی حکومتيں مسلح کارروائيوں کے بيچ پھنس جانے والے شہريوں کی حفاظت کو يقينی نہ بناتے ہوئے قوانين کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہيں۔

سمٹ کے ليے امدادی تنظيم اوکسفيم کی جانب سے متعدد منصوبے تشکيل ديے جا رہے ہيں، جن کا مقصد جنگ و جدل کے درميان شہريوں کی حفاظت ہے۔ ’اوکسفيم جی بی‘ کے سينئر مشير برائے پاليسی ايڈ کيرنز نے کہا، ’’زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ حکومتيں اور مسلح گروپ شہريوں کی حفاظت کے ليے بنائے گئے بين الاقوامی قوانين کے احترام ميں ناکام ثابت ہوتے ہيں۔‘‘ ان کے بقول اس سمٹ کو اس ليے ياد رکھا جائے گا کہ اس کے ذريعے اس معاملے ميں حقيقی تبديلی آ سکے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے سال رواں کے ليے ريکارڈ 20.1 بلين ڈالر کی فنڈنگ کا مطالبہ کيا گيا ہے

اقوام متحدہ کی جانب سے سال رواں کے ليے ريکارڈ 20.1 بلين ڈالر کی فنڈنگ کا مطالبہ کيا گيا ہے

انسانی حقوق سے منسلک گروپ يمن ميں سعودی عرب کی قيادت ميں جاری عسکری کارروائی پر شديد تحفظات رکھتے ہيں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے مطابق اس آپريشن ميں متعدد حملے شہری علاقوں پر کيے جا رہے ہيں۔ اسی طرح شام ميں مارچ 2011 سے جاری خانہ جنگی ميں اب تک ڈھائی لاکھ کے قريب افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ سيريئن آبزرويٹری فار ہيوومن رائٹس کے مطابق دمشق حکومت، امريکی قيادت ميں عسکری اتحاد اور روس تينوں ہی فريق شام ميں فضائی حملوں کے دوران شہريوں کی ہلاکت کا سبب بنے ہيں۔

رواں سال مئی ميں استنبول ميں ہونے والی سمٹ کے سربراہ انٹوئن جيرارڈ کے بقول سمٹ ميں شامی خانہ جنگی کے سبب نمودار ہونے والے مہاجرين کے بحران پر خصوصی توجہ دی جائے گی جس کی ايک وجہ يہ بھی ہے کہ سمٹ کا ميزبان ملک ترکی تقريبا 2.2 ملين شامی پناہ گزينوں کی ميزبانی کر رہا ہے۔

اطلاعات ہيں کہ اس کانفرنس ميں تقريباً پانچ ہزار مندوبين شرکت کريں گے۔ سربراہی اجلاس کا حتمی ايجنڈا فروری ميں اس وقت واضح ہو گا، جب اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل بان کی مون اس پر باقاعدہ بيان جاری کريں گے۔