1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ورلڈ کپ کی میزبانی: ’ہاں ووٹ خریدے گئے‘، فیفا کا اعتراف

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے پہلی بار یہ تسلیم کیا ہے کہ ماضی میں ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے منعقدہ مقابلوں میں فیفا کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے متعدد اراکین نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے رشوتیں لیں۔

Schweiz Zürich FIFA Außerordentlicher Kongress Gianni Infantino

فیفا کے نئے صدر جانی انفانٹینو کے مطابق تنظیم فیفا اپنی یہ رقوم حاصل کر کے رہے گی، خواہ اس میں کتنا ہی عرصہ کیوں نہ لگ جائے

فیفا کی جانب سے یہ اعتراف بائیس صفحات پر مشتمل اُس قانونی دستاویز میں شامل ہے، جو اس عالمی تنظیم کی جانب سے ایک امریکی عدالت میں جمع کروائی گئی ہے۔ اس دستاویز میں کہا گیا ہے:’’اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ فیفا کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے متعدد اراکین نے اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کیا اور متعدد مرتبہ اپنے ووٹ بیچے۔‘‘

فیفا کو اس بناء پر بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اس کے دو صدور شوآؤ آویلانشی اور جوزف بلاٹر کے اَدوار میں رشوت لینا فٹ بال کے اس عالمی ادارےمیں ایک پختہ روایت بن چکی تھی۔ بلاٹر کو، جو سترہ سال تک اس عہدے پر فائز رہے، اسی تازہ اسکینڈل کے بعد ابھی حال ہی میں زبردستی اُن کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

فیفا نے اپنے خلاف کی جانے والی عمومی تنقید کے جواب میں اس دستاویز میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ایک ادارے کے طور پر فیفا کی ساکھ اور کاروباری مفادات کو کچھ ایسے بدعنوان افراد نے نقصان پہنچایا، جو اہم عہدوں پر فائز رہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیفا نے نیویارک میں امریکی اٹارنی کے دفتر میں جمع کروائے گئے بیان میں ’دَسیوں ملین ڈالر‘ کی وہ رقم بھی فیفا کے حوالے کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے، جو رشوت کے طور پر ادا کی گئی اور جو امریکی فیڈرل پراسیکیوٹرز اب تک ضبط کر چکے ہیں۔

فیفا کے جو عہدیدار اور مارکیٹنگ حکام تاحال اپنا جرم قبول کر چکے ہیں، اُن کے قبضے سے 190 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم برآمد کی جا چکی ہے اور فیفا کا مطالبہ ہے کہ اس رقم کا زیادہ تر حصہ اُس کے حوالے کیا جائے۔ ابھی کئی دیگر راشی حکام کے قبضے سے برآمد ہونے والی دَسیوں ملین ڈالر کی مزید رقم امریکی حکام کی تحویل میں آنے والی ہے۔ اب تک امریکا میں رشوت ستانی اور منی لانڈرنگ کے قوانین کے تحت مجموعی طور پر بیالیس افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔

اس دستاویز میں فیفا کے نئے صدر جانی انفانٹینو نے کہا ہے کہ یہ رقوم عالمی فٹ بال کی ملکیت ہیں اور انہیں اس کھیل کی ترقی اور ترویج کے لیے استعمال ہونا تھا۔ اس دستاویز کے مطابق فیفا اپنی یہ رقوم حاصل کر کے رہے گی، خواہ اس میں کتنا ہی عرصہ کیوں نہ لگ جائے۔

فیفا کا یہ اعتراف اس امر کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اس اسکینڈل کی وجہ سے اس عالمی تنظیم کی حکمتِ عملی میں تبدیلی آئی ہے۔ اس سے پہلے کئی مہینوں تک فیفا کے ہیڈکوارٹر میں حکام اس اسکینڈل سے لاتعلقی ظاہر کرتے رہے ہیں۔

اس اسکینڈل کی وجہ سے خود فیفا کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا تھا کیونکہ کئی حلقے اس ادارے کو ختم کیے جانے اور اس کی جگہ ایک نیا ادارہ وجود میں لانے کا مطالبہ کرنے لگے تھے۔

DW.COM