1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ورلڈ ٹیچرز ڈے پر پاکستانی اساتذہ کا احتجاج

پاکستان میں اساتذہ آج منائے جانے والے ورلڈ ٹیچرز ڈے کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔ اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں تدریسی عملے نے حکومت کی مبینہ ’تعلیم مخالف‘ پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔

default

لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کا احٹجاج، فائل فوٹو

عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر احتجاج کرنے والی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر نے کہا کہ اساتذہ کو حکومت کی طرف سے نہ تو کوئی عزت دی جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی استحقاق۔ انہوں نے اپنے ساتھی مظاہرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سوائے چند ایک افراد کے تمام احتجاجی مظاہرین پی ایچ ڈی ڈگریوں کے حامل ہیں۔ لیکن ان اساتذہ کو وہ وقار اور سماجی حیثیت نہیں دئے جاتے، جن کے وہ مستحق ہیں۔ اس خاتون پروفیسر نے پوچھا کہ ایسے حالات میں کسی کو ایسی ڈگریوں سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں حالیہ سیلابوں کے بعد حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں جو کٹوتی کی تھی، اس سے اعلیٰ تعلیم کے لئے مختص بجٹ بھی متاثر ہوا اور اساتذہ کی تنخواہوں میں اعلان کردہ پچاس فیصد اضافہ بھی ابھی تک ادا نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیوں کے انتظامی اخراجات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے علاوہ نئے وظیفوں پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اس کے بعد پاکستان کی بہتر سرکاری جامعات کے تدریسی عملے نے تعلیمی سلسلے کا بائیکاٹ شروع کر دیا تھا۔

Punjab University Old Campus

پاکستانی یونیورسٹیوں میں معمول کی تعلیم بری طرح متاثر

دوسری جانب وفاقی وزیر تعلیم سردار آصف احمد علی نے اساتذہ کے احتجاج کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ایک روز قبل یونیورسٹیوں کے لئے ایک ارب دس کروڑ کے فنڈز کی قسط جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہوتے ہیں، بجائے اس کےکہ ہم گلیوں، سڑکوں پر نکل آئیں۔ اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ سڑکوں پر آنے سے حکومت کے وسائل بڑھ تو نہیں جائیں گے۔ کئی یونیورسٹیوں میں بعض لوگوں کی تنخواہیں تو وزیروں سے بھی چار گنا زیادہ ہیں۔ ایسے میں ان کی پچاس فیصد تنخواہ کیسے بڑھا دی جائے۔ حکومت کو ہر طبقہ کے ساتھ انصاف کرنا پڑتا ہے۔‘‘

ادھر پاکستانی اساتذہ نے ملکی وزیر تعلیم کے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ اساتذہ طلباء کے تعلیمی مستقبل کا خیال نہیں رکھ رہے۔ اس بارے میں اسپیشل ایجوکیشن کے شعبے کے ایک لیکچرار زاہد مجید نے کہا: ’’ہم اس بات کو بھی مد نظر رکھتے ہیں کہ طلباء کا وقت ضائع نہ ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جس عزت کے ہم حقدار ہیں، وہ اگر ہمیں ملے گی تو ہم کمرہ جماعت میں بیٹھیں گے۔ لوگوں کو تعلیم دیں گے اور پوری دنیا میں اور پاکستان میں ایک استاد کا جو وقار ہونا چاہئے، ہم اسے حاصل کریں گے۔‘‘

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر گزشتہ ماہ سرکاری جامعات کے مسائل کے حل کے لئے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو تاحال اس مسئلے کو سلجھانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس