1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ورلڈ ٹونٹی ٹونٹی : دفاعی چیمپئن بھارت آؤٹ

ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کا ورلڈ کپ شروع ہوا تو بھارتی ٹیم کو انتہائی مضبوط خیال کیا گیا تھا۔ اُس کی ایک وجہ ٹیم کے کھلاڑیوں کا انڈین پریمیئر لیگ کا تجربہ تھا۔ لیکن بھارتی ٹیم اپنی ساکھ کے مطابق پرفارمنس دینے میں ناکام رہی۔

default

انگینڈ کے کھلاڑی جیت پر خوشی مناتے ہوئے۔

انگلینڈ میں ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کے ورلڈ کپ میں اپ سیٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کو لندن کے تاریخی کرکٹ میدان لارڈز پر کھیلے گئے ایک انتہائی اہم میچ میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم بھارتی کرکٹ ٹیم پر حاوی رہی۔ بھارتی ٹیم اِس ہار کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے۔ اگر بھارتی ٹیم میچ جیت جاتی تو میزبان ٹورنامنٹ سے باہر ہوتا۔

Mahendra Singh Dhoni

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی، ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے پہلے۔

اِس شکست کے بعد اب بھارتی کرکٹ ٹیم کو صرف ایک میچ کھیلنا ہے۔ یہ میچ جنوبی افریقہ کے خلاف پرسوں منگل کو کھیلا جائے گا۔ یہ میچ بظاہر ٹورنامنٹ کی ایک رسمی کارروائی ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم نے سپر ایٹ مرحلے میں دو میچ کھیلے اور اسے دونوں میں شکست ہوئی۔ اُس کا کوئی پوائنٹ نہیں ہے۔ اِسی راؤنڈ میں دو دِن قبل ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم نے بھارتی ٹیم کو ہرا کر حیران کردیا تھا۔

بھارتی کرکٹ ٹیم ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کے پہلے ورلڈ کپ کی چیمپئن ٹیم تھی اور اِس بار اعزاز کے دفاع میں وہ سب سے مضبوط ٹیم تصور کی جا رہی تھی۔ تمام کھلاڑیوں کے پاس انڈین پریمئر کرکٹ لیگ کا تجربہ بھی تھا لیکن ابتدائی راؤنڈ میں بہتر کارکردگی کے بعد دوسرے مرحلے میں پہلے ویسٹ انڈیز اور پھر انگلینڈ نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے غبارے سے ہوا نکال دی۔

Cricket Bangladesh gegen Indien

کرکٹ کے بھارتی شائقین اپنی ٹیم کی پرفارمنس پر اداس ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف میچ میں مِڈل آرڈر بلے باز یُوراج سنگھ کا آؤٹ ہونا خاصا اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ یُوراج نے دو چھکوں کی مدد سے سترہ رنز بنائے تھے۔ وہ سپنزر سوان کی گیند پر وکٹ کیپر جان فوسٹر کے ہاتھوں شاندار انداز میں سٹمپ آؤٹ قرار دیئے گئے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے دو زوردار کھلاڑی کپتان مہندر سنگھ دھونی اور یوسف پٹھان نے آخری اوورز میں سڑسٹھ رنز کی شراکت نبھائی۔ اِس ناقابل شکست پارٹنز شپ میں سکور ضرور بنے لیکن وہ مطلوبہ تین سکور نہ حاصل ہو سکے جو کامیابی کے لئے درکار تھے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ دونوں بھارتی بلے باز آخری اوور کے انتظار میں تھے کیونکہ اِس بیسویں اوور میں سولہ رنز بنائے گئے۔ بھارتی ٹیم کو آخری اوور میں اُنیس رنز مطلوب تھے۔ ایک چھکے اور چوکے کی مدد سے سولہ رنز تو بنے مگر ہدف کو عبور نہ کیا جا سکا۔ اگر دھونی یا پٹھان سترہویں یا اٹھارہویں یا اُنیسویں اوورز میں بھی ایک چوکا زیادہ لگا دیتے تو کامیابی اُن کی ٹیم کے قدم چوم سکتی تھی۔

انگلینڈ کی جانب سے بھارتی اننگز کی شروعات میں دو اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے پر تیز باؤلر سائیڈ باٹم کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ یہ اور بات کہ اُن کے آخری اوور میں بھارتی کھلاڑیوں نے سولہ رنز حاصل کئے تھے۔ انگلینڈ کے سپنر سوان بھی دو کھلاڑی آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ انگینڈ کی جانب سے مقررہ بیس اوورز میں کیون پیٹر سن کے چھیالیس رنز اہم تھے۔