1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ورلڈ فوڈ سمِٹ میں موگابے اور احمدی نژاد کی شرکت پر تنقید

اٹلی کے شہر روم میں جاری تین روزہ ورلڈ فوڈ سمِٹ میں ایرانی صدر احمدی نژاد اور زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی شرکت کو سمِٹ کے شرکاء نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

default

زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے روم میں اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت کے ورلڈ فوڈ سمِٹ میں شریک ہیں۔

سمِٹ میں شامل بائیں بازو کے حامی سربراہانِ مملکت نے زمبابوے کے سیاسی بحران اور عوام کی ابتر حالت کے پیشِ نظر زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی ورلڈ فوڈ سمٹ میں شرکت پر اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ سٹیفن سمِتھ نے عالمی سمِٹ برائے خوراک میں صدر موگابے کی شرکت کو ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔ سمِتھ کا کہنا تھا کہ صدر موگابے زمبابوے کے لئے آنے والی امداد کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر کہ اپنے عوام کو بھوک کی گہرائیوں میں دھکیلنے کے ذمہ دار ہیں۔ اس لئے ان کا خوراک کے بحران سے متعلق اس کانفرنس میں شریک ہونا مضحکہ خیز ہے۔

آسٹریلیا کے علاوہ برطانیہ نے بھی نے زمبابوے کے سیاسی حالات اور صدر رابرٹ موگابے کی بیرونِ ملک موجودگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براون کے ترجمان نے صدر موگابے کے زمبابوے کو خوراک کی فراہمی کی راہ میں رُوکاوٹیں حائل کرنے کے بعد ورلڈ فوڈ سمِٹ میں شریکہونے کے فیصلے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ صدر موگابے پر زمبابوے کے حالیہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد یورپی یونین میں سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔

جرمنی کی وزیر برائے ترقیاتی امور ویچوغک سوئل نے زمبابوے کے صدر موگابے کی عالمی سمِٹ برائے خوراک میں شمولیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رابرٹ موگابے نے اپنے ملک کو انسانی اور معیشی حوالے سے تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے اور اب وہ اس کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں جو مکمل طور پر ناقابلِ برداشت ہے۔

ورلڈ فوڈ سمِت کے ساتھ ہی اٹلی میں منعقد ہونے والے خوراک کی بالادستی کے فورم کی میزبانی کرنے والے Sergio Meralli نے کہا کہ ایک ایسے صدر کا زمبابوے کی نمائندگی کرنا درست نہیں ہے جسے اس کے عوام ناقابلِ قبول قرار دے چکے ہیں۔

Rom Ernährungsgipfel Ahmadinedschad

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد ورلڈ فوڈ سمِٹ کے دوران صحافیوں سے ملاقات کے دوران

ادھر یہودی لیڈروں نے ایران کے صدراحمدی نژاد ورلڈ فوڈ سمِٹ میں شرکت کی بھی شدید مخالفت کی ہے۔ اٹلی میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، بائیں بازو کے حامی سیاستدانوں اوریہودی گروپوں نے بھی ایرانی صدر احمدی نژاد کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دنیا میں خوراک کی کمی کا مقابلہ مطلق العنان حکومتوں کے روا رکھے گئے مظالم سے متصادم ہے۔ مظاہرین نے ایک بیان میں کہا کہ ایران اس کانفرنس میں کیسے شریک ہو سکتا ہے جبکہ تیس برس سے ایرانی حکومتیں مذہبی اور نسلی اقلیتوں، خواتین اور ہر اس تنظیم کی آواز دباتی آئی ہیں جو حکومت کی پالیسیوں سے متفق نہ ہو۔ مظاہرین کے مطابق آج ہم خوراک کے ذرائع کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے ہمیں اس امر کا بھی خیال رکھنا ہو گا کہ جمہوریت ہی بھوک کے مسئلے کا حل ہے۔