1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ورلڈ سوشل فورم کے دس برس

ورلڈ سوشل فورم کے زیر اہتمام عالمی سول سوسائٹی اور عالمگيریت کے ناقدين کی پہلی کانفرنس سن 2001 ميں پورتو اليگرے ميں ہوئی تھی۔ برازيل کے اس مقام پر رواں ہفتے عالمی سماجی فورم کے دس سال مکمل ہونے کی تقريبات منعقد ہوئيں۔

default

عالمی سماجی فورم نامی تحريک کا نعرہ يہ ہے کہ اگر ہم چاہيں تو دنيا ميں تبديلی لانا ممکن ہے۔اس کی مراد ايک ايسی دنيا سے ہے جس ميں صرف طاقتوروں ہی کو نہيں بلکہ بے گھر،کمزور اور عام انسانوں اور ٹريڈ يونين تنظيموں اور مقامی آبادی کو بھی کچھ کہنے کا حق حاصل ہو، ايک ايسی دنيا جس ميں صرف تجارتی کاروباری اداروں کے مالکان ہی کو عالمگيريت کی شرائط متعين کرنے کا اختيار حاصل نہ ہو۔سن 2001 ميں پورتو اليگرو ميں پہلے سماجی فورم کا مقصد Davos کے عالمی اقتصادی فورم کے مقابل ايک تحريک کو کھڑا کرنا تھا۔اس لئے جان بوجھ کر سوئٹزرلينڈ کے پرفضا پہاڑی مقام Davos ميں ہونے والی کانفرنس کے ساتھ سماجی کانفرنس کے انعقاد کے لئے بھی اسی وقت کا چناؤ کيا گيا۔ اس کے نام ميں بھی مقابلے کو ملحوظ رکھا گيا،يعنی عالمی اقتصادی فورم کے مقابلے پر، عالمی سماجی فورم۔

Flash-Galerie Weltsozialforum

ہزاروں افراد ہر سال سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں

عالمی سماجی فورم کا منصوبہ برازيل کی چند غير حکومتی تنظيموں ،ٹريڈ يونين تنظيموں اور آزادی کی تحريکوں کے سرگرم کليسائی رہنماؤں نے بناياتھا۔ اس تحريک کا صدر دفتر آج تک ساؤ پاؤلو کے مرکزی علاقے کی ايک عمارت ميں ہے۔ فورم کے اجلاس ساؤ پاؤلو کے بجائے پورتو اليگرے ميں اس لئے ہوئے کيونکہ پورتو اليگرو اُس زمانے ميں برازيل کے بائيں بازو کے خيالات رکھنے والوں کا گڑھ تھا۔ يہيں،صدر لولا دے سلوا کی محنت کشوں کی پارٹی نے پہلی بار شہريوں سے شہری بجٹ کی منظوری لی تھی،

Brasilien Weltsozialforum in Porto Alegre

رواں ہفتے عالمی سماجی فورم کے دس سال مکمل ہونے کی تقريبات منعقد ہوئيں

جس کی نقل بعد ميں دنيابھر ميں ہوئی۔اس کے علاوہ پورتو اليگرو عالمی سماجی فورم کی مالی مدد کے لئے بھی تيار تھا۔فورم کو شديد مالی مشکلات درپيش تھيں۔جرمنی کے ايون جيليکل ترقياتی امداد کے کارکن اور عالمی سماجی فورم کی کميٹی کے رکن رائشل نے اس وقت کہا تھا: ’’فورم مکمل طور پر اپنی آخری حدود تک آپہنچا ہے۔ اب اس فورم کے اخراجات پورا کرنا ممکن نہيں رہا۔‘‘

سن 2001 میں عالمی سماجی فورم کے اجلاس ميں صرف 2 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔جبکہ سن 2005 ميں اس ميں شرکت کرنے والوں کی تعداد ايک لاکھ پچپن ہزار اور سن 2009 ميں ايک لاکھ پچاس ہزار تھی۔تاہم شرکاء کی تعداد ميں اضافے کی وجہ سے اخراجات ميں بھی زبردست اضافہ ہوگيا۔

فورڈ اور راکے فيلر جيسی امريکی فاؤنڈيشنز کی مالی مدد کے بغير عالمی سماجی فورم اپنا وجود قائم نہيں رکھ سکتا تھا۔اس طرح عالمگيريت کی حامی دو فرمز نے عالمگيريت پر تنقيد کرنے والے عالمی سماجی فورم کو زندہ رکھا۔

اب اس فورم کے اجلاس باقاعدگی سے برازيل سے باہر ہورہے ہيں مثلاً مومبئی يا نيروبی ميں۔ مرکزی اجلاس کے علاوہ دنيا بھر ميں فورم کے بہت سے دوسرے اجلاس بھی ہوتے رہتے ہيں۔

جائزہ : کشور مصطفیٰ

ادارت : مقبول ملک

ملتے جلتے مندرجات