1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ورلڈ اوپن اسکواش: توقعات سے زیادہ پاکستانی خدشات

23 ویں ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ رواں ہفتے جرمنی کے شہر پاڈر بورن میں شروع ہو رہا ہے جس میں چھ بار کی چیمپئن پاکستانی اسکواش ٹیم کو درجہ بندی میں بارہواں مقام دیا گیا ہے۔

default

چیمپئن شپ میں پاکستان کی تمام توقعات عامر اطلس خان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ عامراطلس کی عالمی رینکنگ 23 ہے اور وہ حال ہی میں ملا ئشین اوپن کا فائنل کھیل کر اپنے حریفوں کو پہلے ہی خبر دار کر چکے ہیں۔ تاہم اسکواش کے سابق عالمی چیمپئن اور ماضی کے شہرہ آفاق پاکستانی کھلاڑی جہانگیر خان کے مطابق اگر پاکستانی ٹیم کوارٹر فائنلز تک بھی پہنچ گئی تو یہ کسی کارنامے سے کم نہ ہو گا۔

پاکستان نے آخری بار1993 میں جہانگیر خان کی ہی قیادت میں کراچی میں ورلڈ اوپن جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا مگر اسکے بعد سے بہت سا پانی پل کے نیچے سے گزر چکا ہے۔

Jehangir Khan ehemaliger Squash Meister

اسکواش کے لیجنڈ جہانگیر خان

ریڈیو ڈوئچے ویلے کو انٹرویو دیتے ہوئے جہانگیر خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ عالمی چیمپئن بننے کے لیے ٹیم کا جس طرح تین میں سے دو میچ جیتنے کا توازن ہونا ضروری ہوتا ہے پاکستانی ٹیم اس خاصیت سے محروم نظرآتی ہے۔

ٹیم کے کپتان عامر اطلس بھی ایونٹ میں شریک دیگراکتیس ممالک کے ساتھ پاکستانی اسکواڈ کا موازنہ کرتے ہوئے کامیابی کی کوئی ضمانت دینے پر آمادہ نہیں ۔

عامر کا کہنا تھا کہ ملائشین اوپن کی فارم کے بعد انہیں اپنی کامیابیوں کا تو یقین ہے مگر دیگر کھلاڑی ناتجربہ کار ہیں وہ کسی کو سرپرائز تو کر سکتے ہیں البتہ انکے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔عامر اطلس خان نے کوارٹر فائنلز تک رسائی کو پاکستان کا اپنا پہلا ہدف قرار دیا۔ واضح رہے کہ پاکستان ٹیم عامر اطلس کےعلاوہ یاسر بٹ، وقار محبوب اور ناصر اقبال پر مشتمل ہے۔

Sport Squash Jansher Khan

اسکواش کے ایک اور مشہور کھلاڑی جان شیر خان

جب جہانگیر خان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کو سکواش میں یہ دن کیوں دیکھنے پڑے ہیں تو چھ بار کے عالمی اور دس بار کے برٹش اوپن فاتح کا کہنا تھا کہ پاکستان اسکواش کی باگھ ڈور ہمیشہ سے ایسے لوگوں کے ہاتھ میں رہی ہے جنہیں کھیل کی الف ب بھی معلوم نہیں۔ جہانگیر خان کے مطابق کسی بھی اسپورٹس فیڈریشن کو چلانے کے لیے عہدیداروں کا ایکسپرٹ ہونا ضروری ہوتا ہے مگر پاکستان اسکواش فیڈریشن کو چلانے والے اسکی اہلیت نہیں رکھتے۔ ہمارے اسکواش چھوڑنے سے سے پہلے اور بعد بھی کھیل کے فروغ کے لیے کوئی کام نہیں ہوا۔

حیران کن طور پر پاکستان اسکواش فیڈریشن نے قومی کوچ جان شیر خان کی علالت کے سبب ورلڈ اوپن کے لیے فیڈریشن کے سیکریٹری عرفان اصغر کو ہی مینجر کے ساتھ کوچ کا بھی عہدہ سونپ دیا ہے۔

Nordrhein-Westfalen - Dom in Paderborn

پاڈر بورن شہر کا مرکزی گرجا گھر

عالمی چیمپئن شپ کی تیاریوں کے لیے فیڈریشن کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اس نے ٹیم کا تربیتی کیمپ لگانے تک کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ اس بارے میں جہانگیر خان کا کہنا تھا کھلاڑیوں نے انفرادی تربیت کی اوربد قسمتی سے وہ ٹیم ایونٹ میں بھی اسی ٹریننگ پیٹرن کو استعمال کرنے پر مجبور ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسکواش فیڈریشن نے تیاری کے لیے کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔

جرمنی پہلی بار ورلڈ اوپن کی میزبانی کر رہا ہے جہاں فیورٹ برطانوی اور مصری چیلنج سے پہلے پاکستان کی ملائشیا کے خلاف آزمائش ہوگی جسے پاکستان نے گز شتہ برس گوانژو میں ہرا کر ایشین چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس