1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

واہگہ بارڈر پر پاک بھارت ٹینس میچ کی وکالت

پاکستانی اور بھارتی ٹینس سٹارز اعصام الحق اور روہن بوپنا نے آج جمعرات کو نئی دہلی اور اسلام آباد حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ انہیں دونوں ملکوں کے مابین واہگہ بارڈر پر ٹینس کے ایک مجوزہ امن میچ کی اجازت دے دینی چاہیے۔

default

ان دونوں کھلاڑیوں کے بقول پاکستان اور بھارت کے درمیان جو کشیدگی پائی جاتی ہے، اس کے تناظر میں ایسے کسی بھی دوطرفہ میچ کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اعصام الحق قریشی اور روہن بوپنا، جن کی جوڑی کو ٹینس کے کھیل میں تبصرہ نگار ’انڈو پاک ایکپریس‘ کا نام بھی دیتے ہیں، کو امید ہے کہ اگر ان کا تجویز کردہ میچ منعقد ہوا، اور وہ دونوں مردوں کے ڈبلز پارٹنرشپ مقابلوں میں بھی مل کر کھیلتے رہے، تو پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ وسیع تر فاصلوں کو بہت کم کیا جا سکتا ہے۔

U.S. Open Tennis Bopanna Aisam-Ul-Haq

دلچسپ بات یہ ہے کہ قریشی اور بوپنا کی اس تجویز کی بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن اور امن کی ترویج کے لیے کام کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے نے بھی بھرپور حمایت کر دی ہے۔ آئی ٹی ایف کے ساتھ ساتھ جس دوسرے ادارے نے قریشی اور بوپنا کی تجویز کی حمایت کی ہے، وہ موناکو کے پرنس البرٹ کی سربراہی میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’پیس اینڈ سپورٹ‘ ہے۔

یہ دونوں کھلاڑی، جو 2007ء سے ٹینس میں مردوں کے ڈبلز مقابلوں میں ایک ٹیم کے طور پر کھیل رہے ہیں، گزشتہ برس یو ایس اوپن کے فائنل میں بھی پہنچ گئے تھے۔ ان دنوں وہ مل کر میلبورن میں آسٹریلین اوپن میں بھی حصہ لے رہے ہیں، جہاں وہ اب مردوں کے ڈبلز مقابلوں کے دوسرے راؤنڈ میں ہیں۔

Tennis Duo Pakistan Bopanna Qureshi

اعصام الحق اور روہن بوپنا کی تجویز ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان واہگہ کی مشترکہ سرحد پر، جہا‌ں دوطرفہ کھچاؤ کا ماحول واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے، سر‌حد کے آرپار ٹینس نیٹ لگا کر ایک ایسا میچ منعقد کرایا جائے، جو دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی ان کوششوں کا حصہ ہو، جنہیں ’سٹاپ وار، سٹارٹ ٹینس‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

ان دونوں کھلاڑیوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس مجوزہ میچ کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت درست سمت میں جا رہی ہے۔ ’’ ہم مل کر اپنے میچ کھیلتے رہیں گے اور اہم مواقع پر زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتے رہیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ شاید واہگہ کی سرحد پر یہ پاک بھارت میچ اسی سال ممکن ہو جائے۔‘‘

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس