1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

واپس يورپ لوٹنے والے جہاديوں کا کيا جائے؟

يورپی ممالک سے ہزاروں افراد شام اور عراق ميں جاری تنازعات ميں شرکت کی غرض سے وہاں سفر کر چکے ہيں۔ اب ان ميں سے کئی واپس آتے جا رہے ہيں اور يورپی حکام اس کشمکش ميں مبتلا ہيں کہ واپس آنے والے جہاديوں کے ساتھ کيا کيا جائے۔

ايک محتاط اندازے کے مطابق شام اور عراق ميں جاری جنگوں ميں ’اسلامک اسٹيٹ‘ يا داعش جيسی دہشت گرد تنظيموں کی صفوں ميں شامل ہو کر لڑنے کے ليے پوری دنيا سے تقريباً ستائيس ہزار غير ملکی افراد نے ان ملکوں کا سفر کيا۔ ان ميں تقريباً پانچ تا چھ ہزار يورپی شہری بھی شامل ہيں تاہم يہ مد نظر رکھتے ہوئے کہ ايسے افراد اکثر و بيشتر خفيہ طور پر مشرق وسطیٰ چلے اور پھر واپس آ جاتے ہيں، ان کی حقيقی تعداد کا تعين کافی مشکل ہے۔ يورپی يونين کے انسداد دہشت گردی سے متعلق امور کے کوآرڈينيٹر ژيل دے کيرکوفے کا ماننا ہے کہ اس وقت بھی دو سے ڈھائی ہزار کے درميان يورپی باشندے مشرق وسطیٰ ميں موجود ہيں۔ جيسے جيسے شامی شہر الرقہ اور ديگر مقامات پر داعش کے جنگجوؤں کو پسپائی کا سامنا ہے، قوی امکانات ہيں کہ يہ جہادی واپس يورپ کی طرف لوٹيں۔ کيرکوفے نے اپنی ايک تازہ رپورٹ ميں لکھا ہے، ’’تازہ ترين اعداد و شمار کے مطابق شام اور عراق جانے والے پندرہ سے بيس فيصد جنگجو وہاں مارے جا چکے ہيں، تيس سے پينتيس فيصد واپس لوٹ چکے ہيں جبکہ تقريباً پچاس فيصد اب بھی وہاں موجود ہيں۔‘‘ ان کے بقول جو افراد اب تک واپس نہيں لوٹے ہيں، وہ خطے کے ديگر ملکوں ميں پناہ ليے ہوئے ہيں اور يہ امکان بھی ہے کہ وہ ديگر خطوں ميں جاری  مسلح تنازعات ميں شامل ہوں۔

ویڈیو دیکھیے 02:07

بیلجیم کا علاقہ مولن بَیک، یورپی جہادیوں کا مرکز؟

يورپی يونين کے کمشنر برائے سکيورٹی جولين کنگ کے مطابق شام اور عراق ميں سرگرم چند غير ملکی جنگجو يورپی ممالک آنے کی کوشش کريں گے۔ ان ميں سے چند کی نيت مستقبل ميں يورپ ميں شدت پسندانہ کارروائياں ہو گی۔ اگرچہ اسٹاک ہوم، مانچسٹر اور لندن ميں ہونے والے حملوں ميں ايسے افراد ملوث تھے، جو يورپ ميں ہی انتہا پسندی کا شکار ہوئے تاہم سلامتی سے متعلق امور کے ماہرين کا ماننا ہے کہ بيرون ملک سے لوٹنے والے جہادی زيادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہيں۔

فرانسيسی خبر رساں ادارے اے ايف پی کے يورپی بيوروز کے اعداد و شمار کے مطابق پندرہ سو کے قريب جہادی مختلف يورپی ملکوں ميں لوٹ چکے ہيں۔ ان کی بھاری اکثريت واپسی پر يا تو جيل ميں ہے يا پھر انہيں کڑی نگرانی ميں رکھا جاتا ہے۔ فرانسيسی صحافی اور مصنف ڈيوڈ تھومسن کہتے ہيں کہ حکام کے ليے سب سے بڑا چيلج حقيقی طور پر يہ جاننا ہے کہ متعلقہ جہاديوں نے مسلح تنازعات کے شکار ممالک ميں در اصل کيا کيا۔ ان کے بقول جب ان سے يہ دريافت کيا جائے، تو وہ کہتے ہيں کہ انہوں نے شام اور عراق ميں نرسوں کے طور پر کام کيا۔

اے ايف پی کے اعداد و شمار کے مطابق جرمنی سے مجموعی طور پر 820 جہاديوں نے شام اور عراق کا رخ کيا تھا، جن ميں سے 280 واپس آ چکے ہيں۔ اسی طرح ساڑھے چار سو ايسے جہادی برطانيہ لوٹ چکے ہيں جبکہ جانے والوں کی تعداد ساڑھے آٹھ سو تھی۔ فرانس سے ايک ہزار جہادی شام اور عراق گئے تھے جن ميں سے 210 واپس لوٹ چکے ہيں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic