1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

واپس جانے والے مہاجرين کے ليے ڈيڑھ سو ملين يورو کا اعلان

جرمنی کے وزير برائے ترقياتی امور نے اعلان کيا ہے کہ تارکين وطن کی واپسی ميں مدد فراہم کرنے کے ليے جرمن حکومت نے ڈيڑھ سو ملين يورو مختص کيے ہيں۔

جرمن وزير برائے ترقياتی امور گيرڈ مولر نے کہا ہے کہ تارکين وطن کی واپسی سے متعلق پروگرام پر آئندہ تين برس کے ليے سالانہ پچاس ملين يورو مختص کيے جائيں گے۔ انہوں نے يہ بات آؤگسبرگر الگمائن نامی اخبار کو ديے گئے اپنے ايک انٹرويو ميں کہی، جو جمعہ نو دسمبر کو شائع ہوا۔ يہ امدادی رقوم رضاکارانہ طور پر اپنے اپنے ملکوں کی طرف لوٹنے والے مہاجرين کے علاوہ سياسی پناہ کے ناکام درخواست دہندگان کے ليے بھی خرچ کی جائيں گی۔

يہ امدادی رقوم عراقی، افغان اور بلقان خطے سے تعلق رکھنے والے تارکين وطن کی واپسی کے ليے خرچ کی جائے گی۔ مولر نے بتايا کہ امداد سے متعلقہ مہاجرين اپنے ملکوں ميں نئی زندگياں شروع کر سکيں گے۔ ان کا مزيد کہنا تھا، ’’ہم انہيں تعليم، پيشہ ورانہ تربيت، ملازمت اور ديگر سہوليات کی پيشکش کر سکتے ہيں۔‘‘

سن 2015 ميں جرمنی ميں سياسی پناہ کے ليے نو لاکھ سے زائد درخواستيں جمع کرائی گئيں۔ تاہم داخلی سطح پر مخالفت اور ديگر وجوہات کی بناء پر اب جرمنی نے بھی اس حوالے سے پاليسياں سخت تر کر دی ہيں۔ آئندہ برس جرمنی ميں عام انتخابات ہونے والے ہيں اور اپنی جماعت کرسچين ڈيموکريٹک پارٹی کے دباؤ کے نتيجے ميں چانسلر انگيلا ميرکل نے مہاجرين کے ليے اپنی پاليسی کسی حد تک تبديل کر لی ہے۔ چند روز قبل پارٹی سے اپنے خطاب ميں انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ کبھی عراقی، شامی اور افغان تارکين وطن کی ايسی لہر کو آنے نہيں ديا جائے گا۔

ميرکل کی مہاجرين کے ليے ’کھلے دل، کھلے دروازوں‘ والی پاليسی متعدد واقعات کے سبب کافی تنقيد کی زد ميں رہی ہے اور اس کی وجہ سے ملکی سطح پر عوامت پسندانہ سياست کو بھی فروغ ملا ہے۔ پچھلے ہفتے ايک افغان تارک وطن کو ايک جرمن لڑکی کے مبينہ زنا بالجبر اور قتل کے سلسلے ميں گرفتار کيا گيا۔ اسی طرح پچھلے ماہ جرمن پوليس نے سات افغان مہاجرين کو ايک مہاجر کيمپ ميں ايرانی لڑکی کو متعدد مرتبہ زيادتی کا نشانہ بنانے کے شبے پر پکڑا تھا۔

ملتے جلتے مندرجات