1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

والدین سمجھے مہدی ڈوب گیا، لیکن وہ زندہ تھا

جرمنی آتے ہوئے ایک دس سالہ افغان لڑکا مہدی اپنے خاندان سے بچھڑ گیا۔ والدین سمجھے کہ وہ سمندر میں ڈوب گیا ہے لیکن ایک سال بعد وہ اپنے خاندان سے واپس آن ملا۔ مہدی اس دوران کہاں تھا؟

جرمنی کے شہر ہینوور میں دس سالہ افغان بچہ ایک سال سے زائد عرصے کے بعد اپنے والدین سے واپس آن ملا۔ مہدی جرمنی کی جانب سفر کرتے ہوئے اپنے خاندان سے بچھڑ گیا تھا۔

تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر واپس ترکی بھیجنے کی کوشش

یورپ میں پناہ کے متلاشیوں میں اڑتالیس ہزار پاکستانی بھی

والدین نے ڈھونڈنے کی کوشش تو کی لیکن انہیں لگا کہ شايد وہ بحیرہ ایجیئن عبور کرتے وقت کئی دیگر تارکین وطن کی طرح سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ اپنے بچے کو مردہ تصور کر کے دل کو تسلی دینے والے والدین کو آخر کار اپنا کھویا ہوا بیٹا ایک سال کے بعد زندہ مل گیا۔

يہ افغان خاندان اپنے پانچ بچوں کے ساتھ جنوری 2015ء میں افغانستان سے جرمنی کے سفر پر نکلا تھا۔ جب وہ لوگ ترکی سے کشتی کے ذریعے یونانی جزیرے لیسبوس کی جانب سفر کرنے کی نیت سے کئی دیگر تارکین وطن کے ساتھ ایک جنگل میں چھپے بیٹھے تھے تو مہدی بھی ان کے ساتھ موجود تھا۔ اس کے بعد افراتفری میں کشتی پر سوار ہونے کی تگ و دو میں مہدی ان سے جدا ہو گیا۔

ویڈیو دیکھیے 02:20

مدد نہیں کر سکتا لیکن دفن تو کر سکتا ہوں

والدین جس کشتی میں سوار تھے وہ بحفاظت لیسبوس تو پہنچ گئی لیکن پھر انہیں معلوم ہوا کہ مہدی ان کے ہمراہ نہیں ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ پیچھے آنے والی ايک کشتی ڈوب گئی ہے۔ یہ سن کر ان کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا لیکن انہیں پھر بھی امید تھی کہ شاید مہدی ساحل پر ہی رہ گیا ہو۔

پریشان حال خاندان نے واپس ترکی جا کر مہدی کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ سات مہینوں تک والدین اسے ترکی میں تلاش کرتے رہے لیکن انہیں کوئی سراغ نہ ملا۔ تھک ہار کر انہوں نے آخرکار یہی سوچا کہ شاید مہدی بھی بحیرہ ایجیئن میں ڈوب چکا ہے۔ انہوں نے دوبارہ اپنی منزل یعنی جرمنی کی جانب سفر کرنا شروع کر دیا۔

افغان خاندان جب جرمنی پہنچا تو مہدی کی بہن نے جرمن ریڈ کراس کو اپنے گم شدہ بھائی کو ڈھونڈنے کے لیے رابطہ کیا۔ مہینوں تلاش کرنے کے بعد ریڈ کراس مہدی کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برن میں تلاش کرنے میں کامیاب رہی۔ مکمل تصدیق ہونے کے بعد جب یہ اطلاع والدین تک پہنچائی گئی تو یہ خبر ان کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھی۔

جرمن ریڈ کراس نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ مہدی جرمنی کے شہر ہینوور کے ایئر پورٹ پر لایا گیا جہاں اس کے والدین بھی موجود تھے۔ مہدی اب اپنے خاندان کے ساتھ باڈ بوڈن ٹائش نامی جرمن شہر جائے گا جہاں اس کے والدین ایک مہاجر کیمپ میں مقیم ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic