1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

واشنگٹن کی توجہ مشرق وسطیٰ تنازعے کے حل پر

امریکی دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ الجزیرہ ٹی وی کے انکشافات کے باوجود واشنگٹن، مشرق وسطیٰ تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے کوشش کرتا رہے گا۔

default

الجزیرہ نے خفیہ سفارتی دستاویزات کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی مذاکرات کار 2008ء کے دوران مقبوضہ مشرقی یروشلم کا کچھ حصہ اسرائیل کو دینے کی پیش کش کرچکے ہیں۔

فلسطین کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب ایریکات الجزیرہ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کا مؤقف اقوام عالم پر واضح ہے اور اس میں کوئی معاملہ خفیہ نہیں۔

Rice nimmt Vermittlungsgespräche in Israel auf

سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس اور سابق اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لیونی

الجزیرہ کے ساتھ ساتھ برطانوی اخبار گارجیئن نے بھی یہی دستاویزات عام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق فلسطینیوں کی جانب سے اس ’تاریخی رعایت‘ کے بدلے میں اسرائیل کی جانب سے کوئی پیش کش نہیں کی گئی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس، سابق اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لیونی، فلسطینی انتظامیہ کے سابق وزیر اعظم احمد قوری اور صائب ایریکات کی موجودگی میں یہ پیش کش کی گئی تھی۔ دستاویزات کے مطابق اسرائیلی حکام یروشلم پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں تھے۔

الجزیرہ کو موصولہ ان دستاویزات کے مطابق فلسطینیوں نے امریکہ اور اسرائیل پر واضح کیا تھا کہ وہ مسئلے کے حل کی جو تجویز پیش کر رہے ہیں اس پر وہ 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ میں منعقدہ مذاکرات میں تیار نہیں تھے۔ دستاویزات کے مطابق فلسطینی حکام مغربی کنارے میں ایسی کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔

Barack Obama mit Benjamin Netanyahu und Mahmoud Abbas NO FLASH

امریکی صدر باراک اوباما کی واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کی فائل فوٹو

مشرقی یروشلم کے جو علاقے مبینہ طور پر اسرائیل کو دیے جانے کی تجویز پیش کی کئی گئی تھی ان میں وہ بستیاں شامل ہیں جہاں یہودی آباد ہیں، مثال کے طور پر فرنچ ہل، رامات الون، گیلو اور شہر کے پرانے حصے میں یہودی اور امریکی کوارٹر کے علاقے۔

ان دستاویزات سے متعلق ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان فلپ کرولی نے کہا ہے کہ امریکہ کی توجہ مسئلے کے حل پر مرکوز ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM