1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

واشنگٹن میں 'نیوزیم' کا قیام

نیوزیم کی بین الاقوامی گیلری میں ایک گلوب لگا ہوا ہے جس میں مختلف ممالک کو مختلف رنگوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہرا رنگ ان ممالک کے لئے ہے کہ جہاں پریس آزاد ہے۔ زرد رنگ ان ملکوں کے لئے کہ جہاں صحافیوں کومکمل آزادی حاصل نہیں

default

نیوزیم کی عمارت جہاں صدر اوباما کےمنتخب ہونےپر خوش آمدید کے کلمات درج کئے گئے ہیں

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب Pennsylvania Avenue پرقائم کی گئی زیادہ تر شیشے سے بنی ایک عمارت کو 'نیوزیم' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عمارت صحافت کے پیشے اور آزادی اظہار کے حق سے منسوب ہے۔ اپنی نوعیت کے اس پہلے 'نیوزیم' کا افتتاح گیارہ اپریل 2008 کوہوا تھا۔ یہاں آنے والے نہ صرف یہ جان سکتے ہیں کہ خبر کیسے بنتی ہے بلکہ انہیں اس کے ذاتی تجربے کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

نیوزیم میں داخل ہوتے ہی پہلی نظر سنگ مرمر کی ایک تختی پر پڑتی ہے۔ 22 میٹر طویل اس تختی پرامریکہ کے پہلے آئین کے وہ الفاظ درج ہیں جن میں صحافت اور آزادی اظہار کی ضمانت دی گئی ہے۔ joe Urschel اس نیوزیم کے نائب صدر ہیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے کی مدد سے وہ عام افراد کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ جو کرتے ہیں اس کے پس پردہ کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد صحافت جمہوریت کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔اس کے بغیرجمہوری معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا۔ اسی وجہ سے یہ میوزیم تعمیر کرنے کا خیال آیا تا کہ لوگ ذرائع ابلاغ کی طرف دیکھ سکیں اور جان سکیں کہ اس شعبے نے اچھے اور برے وقت میں کس طرح کام کیا ہے۔

اس نیوزیم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آزاد پریس کسی بھی معاشرے کے لئے کس قدراہم ہے۔ اس آزادی کو حاصل کرنے کی قیمت کیا ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ شیشے کی اس دیوار سے لگایا جا سکتا ہے جس پرایسے 1800 صحافیوں کے نام درج ہیں جو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے۔ نیوزیم میں ایک اور جگہ معروف صحافی Don Bolles کی گاڑی بھی رکھی ہوئی ہے جو 1976 میں اسی گاڑی میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔ Bolles اپنے قتل سے قبل مافیا گروہوں کے خلاف تحقیقات کر رہے تھے۔

USA Museum für Nachrichten Newseum in Washington

نیوزیم کی عمارت کا بیرونی حصہ

یہاں کھیلوں کی مدد سے یہ بتایا جاتا ہے کہ صحافیوں کے کیا حقوق ہیں اورانہیں کن ضوابط کی پاسداری کرنا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے بارے معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اس نیوزیم کو دیکھنے کے لئے آنے والوں کے خیال میں یہ صحافتی میوزیم امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم پر کشش اداروں میں ایک بہترین اضافہ ہے۔ نمائش گاہ میں دنیا بھرسے لائی ہوئی چیزیں رکھی گئی ہیں جیسا کہ دیواربرلن کا ایک ٹکڑا بھی۔

اس سوال کے جواب میں کہ یہ نیوزیم کس طرح دنیا بھرمیں آزادی صحافت کو بہتر بنا سکتا ہے؟ Urschel نے کہا ہم شائقین کو دنیا کے مختلف ملکوں میں آزادی رائے کی صورت حال کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔

نیوزیم کی بین الاقوامی گیلری میں ایک گلوب لگا ہوا ہے جس میں مختلف ممالک کو مختلف رنگوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہرا رنگ ان ممالک کے لئے ہے کہ جہاں پریس آزاد ہے۔ زرد رنگ ان ملکوں کے لئے کہ جہاں صحافیوں کومکمل آزادی حاصل نہیں ہے اور سُرخ رنگ ان تمام ریاستوں کے لئے ہے جہاں ذرائع ابلاغ کو سرے سے کوئی آزادی نہیں ہے۔

Urschel نے مزید بتایا کہ اس طرح لوگوں کو دنیا بھر میں آزادی صحافت کی صورت حال کو کافی آسانی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ اس گلوب کو دیکھنے کے بعد بہت سے لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا۔ جس کے بعد امید کی جاسکتی ہے کہ یہ انسان اپنے اپنے ملکوں میں آزادی صحافت کی بھرپور حمایت کریں گے۔

ملتے جلتے مندرجات