1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

واشنگٹن میں نواز شریف کا ’غیر متاثر کن‘ خطاب

وزیر اعظم نواز شریف نے امریکا میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کیا، تاہم مبصرین کی رائے میں وزیر اعظم کا خطاب غیر متاثر کن تھا۔ شریف اور امریکی صدر باراک اوباما کی ملاقات بھی طے ہے۔ واشنگٹن سے رفعت سعید کی رپورٹ۔

نواز شریف نے ملک کو درپیش توانائی کے بحران سے لے کر آپریشن ضرب عضب تک ہر حوالے سے امریکا میں مقیم پاکستانیوں کو آگاہ بھی کیا اور سرمایہ کاری کے حوالے سے دعوت بھی دی۔

مبصرین کی رائے میں وزیر اعظم نواز شریف کا خطاب غیر موثر کن تھا۔ معروف صحافی شاہین صحبائی کے مطابق وزیر اعظم تحریک انصاف کے متوقع احتجاج کے باعث خوف زدہ بھی دیکھائی دیے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے متوقع احتجاج کے باعث ہی تقریب کا اہتمام پاکستانی سفارت خانے میں کیا گیا تھا جس میں سفارت خانے کے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے علاوہ مخصوص مسلم لیگیوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ تقریب میں کسی سرمایہ کار کو شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی اور اس محتاط تقریب کو ہی پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کا نام دے دیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف امریکی وزیر خارجہ جان کیری، آئی ایم ایف کے سربراہ، امریکا کی بزنس کونسل سے خطاب کے علاوہ سینٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے چیرمین اور ایوان نمائندگان کی عالمی تعلقات کی کمیٹی کے چیرمین اور اراکین سے ملاقاتوں پر مبنی مصروفیات نمٹانے کے بعد 22 اکتوبر کو امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کریں گے۔

وزیر اعظم کی امریکی صحافیوں سے ناشتے پر ملاقات اور پھر یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے خطاب دورے کے شیڈیول میں شامل ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر اور معاون بہت وضاحت کے ساتھ کہہ رہے ہیں وہ کسی ڈیل کے لیے نہیں آئے نہ کوئی شرط مانیں گے اور نہ کسی شرط کو منوائیں گے، بلکہ پاک امریکا تعلقات کو تجارت اور معاشی خوش حالی کیلئے وسعت دینے کے لیے مذاکرات کریں گے۔

صحافی عظیم میاں کہتے ہیں کہ ملاقاتوں اور مذاکرات کے زمینی حقائق کبھی یک طرفہ نہیں ہوتے۔ لہٰذا فی الحال وزیر اعظم کے دورے کے بارے میں پاکستانی موقف اور توقعات کا پتہ چل سکتا ہے لیکن حتمی نتیجہ تو ملاقات اور مذاکرات کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

وزیر اعظم کا دورہء امریکا نہ صرف پاکستان بلکہ امریکا کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ افغانستان میں طالبان کی سرگرمیاں پھر بڑھنے لگی ہیں۔ جس کے باعث 2016 میں افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کو ملتوی کرنا پڑا ہے۔ اور امریکا کو ایک بار پھر سے پاکستان کی ضرورت ہے، تبھی تو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے لیے پھر سے ترجیحی پالیسی دکھائی دینے لگی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر اعظم کا دورہء امریکا مختصر ہونے کے باوجود دوطرفہ اہمیت کا حامل ہے۔ جتنی ضرورت پاکستان کو امریکا کی ہے اتنی ہی اہمیت امریکا کے لیے پاکستان کی بھی ہے۔ اب یہ وزیر اعظم پر منحصر ہے کہ وہ ’ڈو مور‘ کا مطالبہ سن کر خاموش رہتے ہیں یا مطالبے کے جواب میں واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہیں۔