1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

واشنگٹن میں قذافی کے مخالفین تک اسلحہ پہنچانے پر گفتگو

امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ پر اندرونی طور پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ لیبیا کے رہنما معمر قذافی کو اقتدار سے الگ کرنے میں ناکام رہی ہے اور اسے اب قذافی کے مخالفین کو مسلح کرنے کا عمل شروع کردینا چاہیے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما واضح کرچکے ہیں کہ لیبیا کے معاملے پر فوجی ایکشن سمیت متعدد امکانات موجود ہیں۔ لیبیا کے رہنما معمر قذافی پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ انہوں نے عوامی مزاحمت کو دبانے کے لیے مخالفین پر فضائی بمباری بھی کروائی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

مختلف امریکی ٹیلی وژن چینلز پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی قانون سازوں اور سابق عہدیداروں نے کہا ہے کہ اگرچہ نو فلائی زون کے معاملے پر فی الحال پیشرفت نہیں ہوئی تاہم لیبیا میں حکومت مخالفین کو مسلح کیا جاسکتا ہے۔ امریکی سینیٹ میں خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ جان کیری نے کہا ہے کہ اگلے کچھ ہفتوں کے دوران مختلف ذرائع سے لیبیا میں مزاحمت کاروں تک اسلحہ پہنچ سکتا ہے۔

Libyen Aufständische Kämpfer bei Brega

حکومت کا ساتھ چھوڑ نے والے سابق فوجی

ان کا کہنا تھا کہ نو فلائی زون کے معاملے پر اتحادیوں کے ساتھ اتفاق رائے ضروری ہے تاہم براہ راست فوجی مداخلت پیچیدہ ہوسکتی ہے، ’ ہم میدان پر فوج اتارنا نہیں چاہتے، وہ بھی وہاں فوج نہیں چاہتے‘۔

امریکہ پہلے ہی دو جنگی بحری جہاز بحیرہ روم بھیج کر قذافی کو اپنی عسکری قوت کا مظاہرہ دکھا چکا ہے۔ کیری کے بقول اسی مقصد کے لیے خطے میں امریکی فوجی دستوں کی موجودگی کا احساس دلایا گیا ہے۔

ریاست نیو میکسیکو کے سابق گورنر بل رچرڈ سن نے کہا ہے کہ اب وقت آپہنچا ہے کہ لیبیا میں قذافی کی مخالف قوتوں کو خفیہ طریقے سے مسلح کیا جائے۔ سابق امریکی صدر جارج بش کے مشیر برائے قومی سلامتی سٹیفن ہیڈلی نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو چاہیے کہ اس امکان کا سنجیدگی سے جائزہ لے،’ ظاہر ہے کہ اگر ایسا راستہ نکلے کہ مخالفین تک اسلحہ پہنچایا جاسکے، اگر انہیں طیارہ شکن نظام میسر ہوسکے، جس کی بدولت وہ اپنے اوپر نو فلائی زون قائم کرسکیں تو یہ بہت مددگار ہوسکتا ہے‘۔

امریکی محکمہ ء دفاع کے ترجمان کرنل ڈیوڈ لیپن سے جب پوچھا گیا کہ کیا لیبیا میں حکومت مخالفین تک اسلحہ پہنچانا ممکن ہے؟ تو ان کا کہنا تھا،’جیسا کہ صدر کہہ چکے ہیں کہ تمام امکانات موجود ہیں تاہم ہم فی الحال مختلف امکانات کی تفصیلات پر گفتگو نہیں کر رہے‘۔

Libyen / Gaddafi / Amtsjubiläum

لیبیا کے فوجی ایک سابقہ پریڈ کے موقع پر

لیبیا کے ایک سابق وزیر علی عریشی کا البتہ کہنا ہے کہ واشنگٹن نے معمر قذافی کو اقتدار سے الگ کرنے کا اہم موقع گنوا دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ جب قذافی نازک مرحلے سے گزر رہے تھے، تب امریکہ سے مدد طلب کی گئی تھی تو واشنگٹن نے سستی دکھائی۔

لیبیا سے موصولہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت مخالفین اب بھی ملک کے بیشتر مشرقی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ حکومتی فورسز نے کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے نیا محاز کھول دیا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM