1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

واشنگٹن منشیات کے خلاف جنگ میں میکسیکو کے ساتھ

میکسیکو میں منشیات کا کاروبار کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور وہ بہت منظم بھی ہیں۔ اس ملک میں منشیات کی پیداوار اور کاروبار کے پس منظر میں حالیہ ہفتوں میں انسانی ہلاکتوں میں بھی بہت اضافہ ہو ا ہے۔

default

ہلیری کلنٹن اور میکسیکو کی وزیر خارجہ پیٹریشیا ایسپینوزا

وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی قیادت میں امریکہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے میکسیکو سٹی میں حکام کو یقین دلایا کہ واشنگٹن اس جنگ میں نہ صرف ہمیشہ میکسیکو کی مدد کرے گا بلکہ اس حوالے سے ہابمی تعاون میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

میکسیکو کے امریکہ کے ساتھ سرحد پر واقع چھوٹے سے شہر سُوئی داد خوآریز میں ابھی قریب ایک ہفتہ پہلے ہی امریکی قونصل خانے سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے منگل کی رات میکسیکو سٹی میں کہا کہ منشیات کا کاروبار کرنے والے جرائم پیشہ گروہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

ہلیری کلنٹن کے ساتھ اس وفد میں وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کی خاتون وزیر جینیٹ ناپولیتانو بھی میکسیکو گئیں۔

ان اعلیٰ امریکی اہلکاروں کی میکسیکو کے سینیئر حکام کے ساتھ بات چیت کے بعد ہلیری کلنٹن نے صحافیوں کو بتایا کہ ان دونوں ہمسایہ ملکوں کی حکومتیں اس لئے ملک کر کام کر رہی ہیں کہ مجرموں کے ان گروہوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا جا سکے، جو میکسیکو اور امریکہ کے شہروں اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔

Kampf gegen Drogen Mexiko USA Hillary Clinton

میکسیکو سٹی میں ہلیری کلنٹن کی آمد پر امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا

اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے منشیات کے خلاف واشنگٹن حکومت کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اوباما انتظامیہ ملک میں غیر قانونی ہتھیاروں سے متعلق قوانین پر پوری طرح عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے بھی انتھک کوششیں کر رہی ہے۔

میکسیکو میں منشیات کا کاروبار کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کی خونریز کارروائیاں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ دسمبر 2006 میں وہاں صدارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلیپے کالدیرون نےبہت طاقتور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف باقاعدہ فوجی آپریشن کا حکم دے دیا تھا۔ اس کے باوجود میکسیکو میں دسمبر 2006 سے لے کر اب تک ڈرگ مافیا کے ہاتھوں 15 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

اوباما انتظامیہ نے امریکی کانگریس کو یہ درخواست بھی دے رکھی ہے کہ ڈرگ مافیا کے خلاف جنگ میں میکسیکو کی مدد کے لئے 310 ملین ڈالر کی فراہمی کی منظوری دی جائے۔

میکسیکو کو منشیات کا کاروبار کرنے والے منظم گروہوں کی طرف سے اپنی داخلی سلامتی کے حوالے سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ جس وقت امریکی وزیر خارجہ کلنٹن میکسیکو سٹی میں اعلیٰ ریاستی حکام کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھیں، اسی وقت ڈرگ مافیا سے تعلق رکھنے والے دو متحارب گروپوں کے ارکان کے مابین لڑائی، اور ان کی سرکاری فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں کم ازکم نو افراد مارے گئے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM