1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان درجہٴ حرارت بڑھنے کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کے جواب میں اسلام آباد اور راولپنڈی سے سخت بیانات آنے شرو ع ہوگئے ہیں۔ کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان آنے والے ہفتوں میں درجہ ء حرارت بڑھے گا۔

پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں آج اس بات پر شدید نا پسندیدگی کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا لیکن اس کے کردارکو موثر انداز میں سراہا نہیں گیا۔

وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے بھی سینیٹ میں سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر افغانستان میں جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے امریکی صدر کے الزامات کے جواب میں انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں مشرقی افغانستان میں ہیں، جو پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں۔

امریکا پاکستان کے سلامتی کے تحفظات کا احترام کرے، چین

ٹرمپ کی تنقید ’مایوس کن‘ ہے، پاکستان

کابل امریکی امداد کو ’بلینک چیک‘ نہ سمجھے، ٹرمپ

پاکستان کو دہشت گردوں کو پناہ دینے کی قیمت چکانا ہو گی، ٹرمپ

پاکستان کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ خواجہ آصف کا دورہ امریکہ منسوخ کر دیا گیا ہے اور انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ چین سمیت دیگر دوست ممالک سے رابطے کریں۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے مولانا سمیع الحق ، جنہیں افغان طالبان کا روحانی باپ بھی کہا جاتا ہے، نے آج وفاقی دارالحکومت میں یہ کہا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف ایکشن نہیں لے گا ۔ سمیع الحق نے تمام خطیبوں سے یہ اپیل کی کہ وہ جمعے کے خطبات میں جہاد کی اہمیت پر درس دیں۔
سیاسی مبصرین کے خیال میں اس سارے منظر نامے سے اس بات کو تقویت پہنچتی ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان آنے والے ہفتوں میں درجہ ء حرارت بڑھے گا۔

US-Präsident Trump Transgender Verbot für Militär (picture-alliance/AP Photo/E. Vucci)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ


معروف مصنفہ اور دفاعی تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھے گی، جو ملک کے لئے بہتر نہیں ہے۔ ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’خواجہ آصف کا دورہ منسوخ کرنا اور مولانا سمیع الحق کا اتنا سخت بیان دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پنڈی والے امریکہ کو سخت پیغام دینا چاہتے ہیں۔

عائشہ صدیقہ نے مزید کہا،’’ میرے خیال میں امریکی صدر کے بیان پر چھلانگیں لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں ان سے بات چیت کرنی چاہیے۔ وہ مزید فوجیں افغانستان بھیج رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو ہمارے ملک پر انحصار کرنا پڑے گا۔ ہمیں ان کے سامنا اپنا کیس رکھنا چاہیے۔ ہمارے سفیر سارا وقت واشنگٹن میں تصویریں ہی کھچواتے رہے۔ انہوں نے کوئی کام نہیں کیا۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’امریکہ افغانستان میں تشدد میں کمی چاہتا ہے اور افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے۔ ہم یہ دونوں کاموں میں امریکہ کی مدد کر سکتے ہیں لیکن ہم چین پر حد سے زیادہ انحصار کر کے سخت موقف اپنا رہے ہیں، جو کوئی دانشمندانہ کام نہیں۔‘‘

Khawaja Muhammad Asif (picture alliance / AP Photo)

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف


معروف تجزیہ نگار ڈاکڑ خالد جاوید جان کے خیال میں اگر ہم چین اور روس کے آسرے پر یہ کر رہے ہیں ، تو شاید اس سے ہمیں کچھ فائدہ ہوجائے لیکن اگر یہ ایڈونچر ہے تو اس کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’آ پ کشیدگی بڑھارہے ہیں لیکن کن بنیادوں پر آپ ایسا کر رہے ہیں۔ ملک میں کوئی سیاسی استحکام نہیں ہے۔ ہم چاروں طرف سے قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں، ایسے میں ایڈونچر کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔‘‘

خواجہ آصف کا سخت بیان اور مولانا سمیع الحق کی جو شیلی تقریر اس بات کی عکاس ہے کہ ہم میں فہم و فراست نہیں ہے۔ ہمیں امریکہ اور دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہم نے ان کی اس جنگ میں کتنی قربانیاں دی۔ اگر کوئی نیٹ ورک واقعی موجود ہے ، تو ہمیں اس پر بات چیت کرنی چاہیے۔ بات چیت کے دروازے بند کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘‘
لیکن کچھ سیاسی مبصرین حکومتی اکابرین کے سخت بیانات پر خوش ہیں۔
تجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ ایسے آثار ہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھے گی لیکن امریکہ کو جلد یہ محسوس ہوگا کہ وہ پاکستان کو اس طرح تنہا نہیں کر سکتا۔ اگر امریکہ نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا تو خطے میں پاکستان، چین اور روس پہلے ہی صف بندیاں کر رہے ہیں۔ جس میں ایران، ترکی اور وسطی ایشیا کے ممالک میں شامل ہوجائیں گے۔‘‘

DW.COM