1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وارسا: جرمن قابض افواج کے خلاف مزاحمت کے 65 برس

وارسا میں ہفتہ کو ان افراد کو یاد کیا جارہا ہے جنہوں نے یکم اگست 1944ء کو جرمن قابض فوجوں کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا تھا۔

default

وارسا کی مزاحمتی یادگار پر عبادتی اجتماع

پینسٹھ سال قبل پولینڈ کے دارلحکومت وارسا میں نازی سوشلسٹوں کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوا تھا۔ آج بھی پولینڈ میں یہ موضوع زیر بحث ہے کہ آیا پولش آرمی کا جرمن قابض افواج کے خلاف بغاوت کا فیصلہ صحیح تھا یا نہیں؟ پولش افواج کی مزاحمت تقریبا دو ماہ جاری رہ سکی تھی۔

BdT Polen Jahrestag Warschauer Aufstand

وارسا کے ایک عجائب گھر کی دیوار پر مزاحمت کے دوران ہلاک ہونے والوں کے نام تحریر ہیں

ہفتہ کو وارسا میں مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے سائرن بجانے کے ساتھ ہی شہر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ اس خاموشی میں ان افراد کو یاد کیا جائے گا جنہوں نے یکم اگست 1944ء کو جرمن قابض فوجوں کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا تھا اور جسے وارسا مزاحمت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 65 سال قبل یکم اگست ہی کو شام پانچ بجے پولینڈ کی فوج میں شامل چالیس ہزار مرد اور خواتین نے نازیوں کے زیر استعمال عمارتوں اور دفاتر پر حملے کئے تھے۔ وانڈا پیکلیکیئے وچ بھی اس وقت اس بغاوت کا حصہ تھیں۔ ان کے مطابق اس وقت مزاحمت کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

پولینڈ کی فوج نے بہت کم اسلحے کے ساتھ بغاوت کا آغازکیا تھا۔ واضح برتری کے باوجود بھی نازی فوج فوری طور پر بغاوت کوکچلنے میں ناکام رہی تھی۔ بغاوت کے 63 ویں دن یعنی تین اکتوبر 1944ء کو وارسا پر قبضہ حاصل کرنےکی جنگ ختم ہو گئی اور باغیوں کو نازیوں کے آگے جھکنا پڑا۔ اس دوران تقریبا دو لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور ہٹلر کے حکم پر وارسا شہرکا 95 فی صد حصہ خاک میں ملا دیا گیا۔

مصنف اور کالم نگار توماز لوبنسکی 1944ء میں رونما ہونے والے اس واقعے کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مزاحمت کے دوران 20 ہزار نوجوانوں کو بھی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ یہ شکست صرف ایک شہر کی تباہی کا سبب نہیں بنی بلکہ ایک پوری نسل کا نشان مٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نوجوانوں کی طاقت کوکسی اور مقصد اور مناسب وقت کے لئے بچا کر رکھنا چاہیے تھا۔ اس دور کے ان پر امید نوجوانوں کی کمی آج بھی محسوس ہوتی ہے۔

کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اگر عسکری حوالے سے دیکھا جائے تو جرمن قابض فوجوں کے خلاف یہ بغاوت بالکل صحیح فیصلہ تھا۔کمیونسٹ دور میں وارسا مزاحمت کے حوالے سے تقریب منعقد کرنے پر پابندی تھی اور جمہوریت کے بعد ہی پولینڈ نے ان افراد کی خدمات کو سراہنا شروع کیا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گل