1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وادی پنجشیر میں بھی سلامتی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کے حوالے

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجی دستوں نے افغانستان کے شمالی صوبے پنجشیر میں سلامتی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کے حوالے کردی ہیں۔

default

پنجشیر کا شمار شورش زدہ افغانستان کے قدرے پر امن اور طالبان مخالف صوبوں میں ہوتا ہے۔ دارالحکومت کابل سے 130 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع پنجشیر کی وادی اس سلسلے کا چھٹا علاقہ ہے جہاں کی سکیورٹی مقامی دستوں کے حوالی کی گئی ہیں۔ یہ سابق مجاہد کمانڈر احمد شاہ مسعود کا آبائی علاقہ ہے، جنہوں نے پہلے سوویت یونین اور بعد میں طالبان کے خلاف اپنے علاقے کا دفاع کیا تھا۔

پنجشیر میں اتوار کو منعقدہ تقریب میں انتقال برائے امور سلامتی کے نگران اشرف غنی احمد زئی اور وزیر دفاع عبد الرحیم وردگ سمیت متعدد دیگر افغان اور امریکی حکام نے شرکت کی۔ اشرف غنی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ افغان فوج اور پولیس کو سیاسی اور گروہی اثر و رسوخ سے پاک رکھا جائے۔

عبد الرحیم وردگ نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ اپنے علاقے کا دفاع کرنا ہر افغان پر فرض ہے، ’’ مسعود آج ہمارے درمیان نہیں، لیکن اس کی روح آج اس تقریب کے موقع پر ہمارے درمیان موجود ہے۔‘‘

AFGHANISTAN Verantwortungsübergabe an die Afghanen FLASH-GALERIE

تقریب کے دوران افغان فوج کا ایک دستہ

ٹھاٹھیں مارتے دریائے پنجشیر اور ہندوکش کی برف پوش پہاڑی چوٹیوں کے دامن میں واقع پنجشیر میں سوویت شکست کے آثار اب بھی زنگ آلود ٹینکوں کی شکل میں موجود ہیں۔ سرخ فوج نے اس علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے دس بار فوج کشی کی مگر ہر بار اسے ناکامی ہوئی۔ کابل حکومت کو امید ہے کہ قدرتی نظاروں سے سجی یہ وادی سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرکے ملکی معیشت کا مضبوط سہارا بنے گی۔

وادی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران امریکی عہدیدار رچرڈ اولسن نے کہا کہ افغانستان کے لیے امریکی تعاون راتوں رات ختم نہیں ہوگا، ’’ سلامتی کی ذمہ داریوں کا انتقال دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری میں محض ایک اگلا قدم ہے۔‘‘

پنجیشیر کے بعد اب دارالحکومت کابل کی سلامتی کی ذمہ داری افغان سکیورٹی دستوں کو سونپی جائیں گی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM