1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’وائٹ ہاؤس کو امریکی تاریخ تباہ نہ کرنے دی جائے‘، وکی لیکس

خفیہ دستاویزات منظر عام پر لانے والی ویب سائٹ وکی لیکس کے بانی نے امریکا میں وائٹ ہاؤس ذرائع سے اپیل کی ہے کہ وہ باراک اوباما کے آٹھ سالہ دور صدارت کے خاتمے سے قبل اہم دستاویزات کاپی کر کے انہیں وکی لیکس کو مہیا کریں۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے بدھ چار جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق وکی لیکس کے بانی جولیان آسانج نے کہا ہے کہ اس سے قبل کہ دو مرتبہ صدارتی منصب پر فائز ہونے والے باراک اوباما اس ماہ کی بیس تاریخ کو وائٹ ہاؤس سے حتمی طور پر رخصت ہو جائیں، امریکی صدر کی اس سرکاری رہائش گاہ کے ذرائع کو چاہیے کہ وہ اہم خفیہ دستاویزات سامنے لانے میں اس ویب سائٹ کی مدد کریں۔

نو منتخب ریپبلکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج سے قریب دو ہفتے بعد اپنی ذمے داریاں بیس جنوری کو سنبھالیں گے، جس کے ساتھ ہی باراک اوباما وائٹ ہاؤس سے رخصت ہو جائیں گے اور یہ جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سرکاری رہائش گاہ بن جائے گی۔

اس حوالے سے وکی لیس کے بانی جولیان آسانج نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ’’(امریکی انتظامیہ کے) سسٹم ایڈمنز کو چاہیے کہ وہ وائٹ ہاؤس کو ایک بار پھر امریکی تاریخ تباہ نہ کرنے دیں۔ اہم دستاویزات کی نقول ابھی تیار کریں اور انہیں جب بھی چاہیں، وکی لیکس کو بھیج دیں۔‘‘

Großbritannien Botschaft von Ecuador in London (Getty Images/AFP/D. Leal-Olivas)

جولیان آسانج جون دو ہزار بارہ سے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں

اس کے علاوہ اپنی ایک اور ٹویٹ میں آسانج نے مزید لکھا، ’’ہم کسی بھی ایسی خفیہ اطلاع کی فراہمی کے لیے 20 ہزار امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اوباما انتظامیہ کے کسی بھی ایسے ایجنٹ کا نام منظر عام پر آ جائے یا وہ گرفتار کر لیا جائے، جس نے اہم سرکاری ریکارڈ تباہ کیا ہو۔‘‘

امریکا میں مقامی وقت کے مطابق منگل تین جنوری کی رات ٹوئٹر پر اپنے اس پیغام کے اجراء کے بعد جولیان آسانج نے امریکا کے فوکس ٹیلی وژن نیٹ ورک کو ایک تفصیلی انٹرویو بھی دیا۔ فوکس ٹیلی وژن کو آسانج نے یہ انٹرویو برطانوی دارالحکومت لندن میں قائم ایکواڈور کے سفارت خانے میں دیا، جہاں وہ جون 2012ء سے پناہ لیے ہوئے ہیں۔

قریب ساڑھے چار سال قبل آسانج نے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں اس لیے پناہ لے لی تھی کہ برطانوی حکام انہیں ملک بدر کر کے تفتیش کے لیے سویڈن کے حوالے نہ کریں۔ آسانج کو سویڈن میں اپنے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا ہے، جسے وہ ’وکی لیکس ہی کی وجہ سے‘ سیاسی وجوہات کی بناء پر قائم کیا گیا مقدمہ قرار دیتے ہیں۔

اپنے اس انٹرویو میں آسانج نے اس بارے میں کوئی روشنی نہ ڈالی کہ گزشتہ برس نومبر کے امریکی صدارتی الیکشن سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی حریف ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے سربراہ جان پوڈیسٹا اور ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی ہزاروں خفیہ ای میلز کے افشاء میں مرکزی کردار کس نے ادا کیا تھا۔

Wikileaks (picture-alliance/dpa/O. Berg)

وکی لیکس نے امریکی الیکشن سے قبل ہزاروں ڈیموکریٹک ای میلز لیک کر دی تھیں

وکی لیکس نے یہ ای میلز صدارتی انتخابات سے قبل جاری کی تھیں اور امریکی انٹیلیجنس ادارے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ان دستاویزات کے افشاء کے ذریعے کا تعلق روس سے تھا اور ماسکو مبینہ طور پر نومبر کے الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونا چاہتا تھا۔

45 سالہ آسٹریلین شہری جولیان آسانج نے اپنے اس انٹرویو میں تاہم تردید کی کہ ان ڈیموکریٹک ای میلز کو منظر عام پر لانے والے ذریعے کا روسی حکومت یا اس سے تعلق رکھنے والے حلقوں سے کوئی تعلق تھا۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا جان پوڈیسٹا اور ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی ای میلز کے افشاء سے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن جیتنے میں مدد ملی، آسانج نے کہا، ’’یہ بھلا کون جانتا ہے؟ اس بارے میں کچھ بھی کہنا قطعی ناممکن ہے۔‘‘

DW.COM