1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ن لیگ کا مستقبل اور گاڈ فادر والے جملے پاکستان میں زیر بحث

پاناما فیصلے کے بعد جہاں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے وزیرِ اعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے وہیں جسٹس کھوسہ کے گاڈ فادر والے جملے بھی کئی حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک معروف کارکن نے جسٹس کھوسہ کے گاڈ فادر ناول کے مکالموں کا حوالہ دینے کو ’نامناسب‘ قرار دیا لیکن پاکستان میں کئی لوگ ان جملوں کو حققیت کا عکاس بھی سمجھتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے گفت گو کرتے ہوئے سینیٹر عثمان کاکڑ نے ان جملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’میں فاضل جج کے ان جملوں سے اتفاق کرتا ہوں۔ یہ صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں، دنیا میں کہیں بھی دولت جرائم اور استحصال کے بغیر نہیں بنائی جا سکتی۔ارتکازِ دولت اور جرائم کا قریبی رشتہ ہوتا ہے۔آپ ہمارے دولت مند سیاست دان، جنرلز، بیورکریٹس اور جاگیرداروں کو دیکھ لیں، کس کا دامن ان میں صاف ہے؟ سب نے ہی استحصال کے ذریعے پیسہ بنایا ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’نواز شریف کے لیے کوئی مسائل نہیں ہوں گے کیوں کہ عدالت نے فیصلہ ہی مبہم دیا ہے۔ جہاں تک فوج اور میاں صاحب کا تعلق ہے تو دونوں ہی پنجابی ہیں۔ اس لیے میاں صاحب کو عمران خان کے جلسے یا حزبِ اختلاف کے احتجاج سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا اور وہ اپنی مدت پوری کر لیں گے۔‘‘
تجزیہ نگار عرفان چوہدری نے کہا، ’’جسٹس کھوسہ کی اس بات میں بڑا وزن ہے۔ ہمارے جاگیرداروں نے سامراج کے جرائم میں حصہ داری ڈال کر پیسہ کمایا اور بڑی بڑی جاگیریں حاصل کیں۔ ہمارے ملک میں پہلا امیر طبقہ ایوب خان کے دور میں پیدا ہوا، جنہیں ریاستی اداروں نے بے پناہ قرضے دیئے اور انہوں نے پوری طرح ٹیکس چوری کی۔ جنرل ضیاء کے دور میں منشیات اور ہتھیاروں کے اسمگلروں نے خوب مال بنایا اور سیاست میں آگئے۔ درحقیقت نواز شریف بھی ضیاء دور میں ہی پروان چڑھے اور ایک چھوٹا سا کارخانہ چلانے والا گھرانہ دیکھتے دیکھتے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں آگیا۔ مشرف کے دور میں ریئل اسٹیٹ مافیا نے پیسہ بنایا اور سیاست میں جلوہ گر ہوا۔ تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ارتکازِ دولت کے پیچھے جرائم کی ایک طویل تاریخ ہوتی ہے، جو عموماﹰ لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘‘

Pakistan Oberster Gerichtshof in Islamabad (Reuters/C. Firouz)

’نواز شریف کے لیے کوئی مسائل نہیں ہوں گے کیوں کہ عدالت نے فیصلہ ہی مبہم دیا ہے‘

میاں صاحب کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں ن لیگ کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور شاید یہ اگلے انتخابات بھی جیت جائیں کیوں کہ جے آئی ٹی کی ٹیم میاں صاحب کو خود ہی بنانی ہے۔ آرمی کے لوگ تھوڑے بہت مسائل پیدا کریں گے لیکن میاں صاحب لے دے کر انہیں بھی منا لیں گے۔ فوج کے کچھ مطالبات ہیں، جن کو وہ اس ٹیم کا دباؤ استعمال کر کے حکومت سے منوالے گی۔ اس کے بعد میاں صاحب کا معاملہ ٹھیک ہوجائے گا اور وہ آرام سے اپنی مدت پوری کریں گے۔‘‘

ن لیگ کا اعتماد بھی عرفان چوہدری کی اس بات کو صیح ثابت کرتا ہے۔پارٹی کے ایک سینیئر رہنما راجہ ظفر الحق نے عمران خان کے احتجاج اور حزب اختلاف کی طرف سے وزیرِ اعظم کے استعفے کے مطالبے کے حوالے سے کہا، ’’ہم اُن کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ یہ جلسہ کریں، جس طرح یہ جلسے ماضی میں ناکام ہوئے ہیں، اب بھی ایسے ہی ناکام ہوں گے۔ وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دیں گے۔ پیپلز پارٹی والے پہلے کہتے تھے کہ عدالت ہمارے خلاف فیصلہ نہیں دے گی اور اب بھی وہ ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پی پی پی کا مطالبہ غیر قانونی و غیر آئینی ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ آئین کی رُو سے سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ وہ (قانون کی شق) 183کے تحت بغیر تحقیق وزیر اعظم کو نا اہل قرار نہیں دے سکتی۔ تو اب یہ تحقیق ہونے دیں اور اس کے نتائج کا انتظارکریں۔‘‘

لیکن پیپلز پارٹی کی نظر میں عدالت کا فیصلہ صرف ’آئی واش‘ ہے۔ فرحت اللہ بابر نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’جے آئی ٹی ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر کے تحت ہوگی۔ یہ وہ ایف آئی اے ہے، جو مسافر خواتین پر تشدد کرتی ہے اور بعد میں مقدمہ بھی ان ہی پر قائم کیا جاتا ہے۔ سکیورٹی ایکسچینج کمیشن میں میاں صاحب کے اپنے لوگ ہیں۔ نیب کو تو سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ یہ کام کرنا نہیں چاہتی ۔تو ایسی تفتیش کا کیا حشر ہوگا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’آئی ایس آئی کے چیف سے میاں صاحب کی دور کی رشتہ داری ہے، سید خورشید شاہ نے اسی حوالے سے یہ بات کی ہوگی کہ میاں صاحب کے آئی ایس آئی سے تعلقات ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے ادارے کی طرف کوئی اشارہ کر رہے ہیں۔‘‘

فرحت اللہ بابر کا مزید کہنا تھا، ’’ابھی تو پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی ہوگیا ہے، اب جب اگلا اجلاس ہوگا تو ہم اس کے بارے میں سوچیں گے کہ آیا اس میں شرکت کرنی ہے یا اس کا بائیکاٹ کرنا ہے۔‘‘

DW.COM