1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

نیکڈ گن کے سٹار لیزلی نیئلسن چل بسے

’ایئرپلین’ اور ’دی نیکڈ گن’ کے سٹار معروف کامیڈین لیزلی نیئلسن وفات پا گئے ہیں۔ ان کی عمر 84 برس تھی۔ برزگ امریکی اداکار کا انتقال فلوریڈا کے ایک ہسپتال میں ہوا۔

default

لیزلی نیئلسن

لیزلی نیئلسن کے ایجنٹ جان ایس کیلی نے کہا ہے کہ وہ نمونیہ کا شکار تھے اور ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔ ان کے بھتیجے ڈونیئلسن نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’ان کے آخری لمحات میں ان کی اہلیہ اور قریبی دوست ان کے پاس موجود تھے۔‘

وہ 1926ء میں کینیڈا کے شہر ریگینا میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے اپنی فنی کیریئر کا آغاز ایک سنجیدہ اداکار کے طور پر کیا تھا۔ تاہم 1980ء میں فلم ’ایئرپلین‘ میں ایک بدقسمت ڈاکٹر کے کردار نے انہیں کامیڈین بنا دیا۔

انہوں نے اپنے فلمی کیریئر میں ایک سو سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اس دوران انہیں ہالی وُڈ کے واک آف فیم میں بھی جگہ ملی۔ ان کا فنی سفر چھ دہائیوں پر محیط ہے، جس کی ابتداء انہوں نے 1950ء میں نیویارک سے کی تھی۔ اس وقت انہوں نے ٹیلی ویژن کے لئے کام شروع کیا تھا۔ ابتدائی عرصے میں وہ ڈیڑھ سو براہ راست ڈراموں میں جلوہ گر ہوئے۔

BdT Hollywood Schild bekommt Anstrich

لیزلی نیئلسن نے ایک سو سے زائد فلموں میں کام کیا

1950ء کی دہائی کے وسط میں ہی وہ ہالی وُڈ منتقل ہو گئے۔ انہوں نے فلمی کیریئر کی ابتدا مرکزی فنکار کے طور پر کی اور اپنی خوش شکلی اور لمبے قَد (چھ فٹ دو انچ) کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ان کا یہی رُوپ 25 برس تک ہالی وُڈ پر چھایا رہا، جس کے بعد فلم ’ایئرپلین‘ کی ریلیز کے ساتھ ہی منظر بدل گیا اور وہ مزاحیہ اداکار کے طور پر مشہور ہو گئے۔ اس فلم میں ان کا ڈائیلاگ تھا، ’ڈونٹ کال می شِرلے‘ (مجھے شِرلے مت کہو)، جو بہت مشہور ہوا۔

اس فلم کی کامیابی انہیں ایک مرتبہ پھر ٹیلی ویژن کی طرف کھینچ لائی اور انہوں نے ’پولیس سکواڈ’ میں فرینک ڈریبن نامی جاسوس کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ’نیکڈ گن‘ سیریز کے کردار کے طور پر تین فلمیں بنائیں، جن میں ان کے مقابل پریسلا پریسلی تھیں۔

لیزلی نیئلسن فلوریڈا میں رہائش پذیر تھے، جہاں انہیں تقریباﹰ دو ہفتے قبل نمونیہ کے باعث ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ تاہم دو روز قبل ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی تھی۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس