1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نیپال، ہم جنس پرستوں کے لیے پہلا آشرم

نیپال میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے ایک ایسا آشرم کھولا ہے، جہاں ایسے افراد رہ سکیں گے جو ایڈز یا ایچ آئی وی کا شکار ہیں اور جنہیں ان کے گھر والوں نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔

default

کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع اس ریاست میں اپنی نوعیت کے اس پہلے آشرم یا شیلٹر ہاؤس کے قیام پر ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرکردہ کارکنان نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندو اکثریتی ملک نیپال کی قدامت پسند روایات میں یہ ایک اچھی تبدیلی ہے۔

نیپال میں ہم جنس پرستی معیوب سمجھی جاتی ہے اور وہاں ہم جنس پرستوں کو تحفظ فراہم کرنے سے متعلق کوئی قانون بھی موجود نہیں ہے۔ نیپال میں ’غیر قدرتی جنسی عمل‘ پر ایک برس کی سزائے قید بھی سنائی جا سکتی ہے۔

اس آشرم کے بانی ادارے بلیو ڈائمنڈ سوسائٹی BDS کے سربراہ سنیل بابو پانت نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا،’ یہ لوگ علاج چاہتے ہیں لیکن یہ اس انتظار میں کافی دیر کر چکے ہیں۔ یہ لوگ اپنی زندگی کے آخری ایام میں سکون چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کی ان کی آخری رسومات مذہبی طریقے سے ادا کی جا سکیں‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان ہم جنس پرستوں کے گھر والے ان کی موت کے بعد ان کا آخری دیدار کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں، اس لیے اُن کا ادارہ اِن افراد کی آخری رسومات بھی ادا کرتا ہے۔

Nepal Yoga

نیپال کے قدامت پسند معاشرے میں ہم جنس پرستی معیوب سمجھی جاتی ہے

نیپالی دارالحکومت کھٹمنڈو کے نواح میں ایک پرسکون رہائشی علاقے میں واقع اس آشرم میں تیس افراد کے رہنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ وہاں انہیں رہائش کے علاوہ مفت طبی امداد بھی دی جاتی ہے۔ سنیل بابو نے بتایا کہ اس آشرم کے باہر کوئی سائن بورڈ نہیں لگایا گیا تاکہ مقامی آبادی کو معلوم نہ ہو سکے کہ یہاں ہم جنس پرست لوگ رہتے ہیں۔ سنیل بابو کے بقول نیپال میں ہم جنس پرستوں کے لیے کوئی بھی شخص مکان کرائے پر دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

اس آشرم میں جو ہم جنس پرست آتے ہیں اگرچہ وہ اپنی مشکلات کا برملا اظہار نہیں کرتے تاہم انہیں یہاں جو مدد فراہم کی جاتی ہے، اس سے وہ نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ مطمئن بھی۔ اس آشرم میں قیام پذیر ستائیس سالہ ہم جنس پرست راجوبارل کہتے ہیں،’ یہ ہم جیسے لوگوں کے لیے ایک انتہائی اچھی جگہ ہے، یہاں بہت اچھی طبی امداد دی جاتی ہے‘۔

راجو کو 2007ء میں معلوم ہوا تھا کہ وہ ایچ آئی وی کا شکار ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے شرمندگی کا باعث نہ بنے۔ اس دوران اس کی صحت بگڑ گئی تھی تاہم جب سے وہ اس آشرم میں آیا ہے، اس کی جسمانی حالت بہتر ہوئی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس