1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال کے سابق ماؤ باغیوں کی عملی زندگی میں واپسی

کوہ ہمالیہ کی جمہوریہ نیپال میں قدیمی بادشاہت نے سن 2006 میں عوامی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ اس وقت کے بادشاہ شاہ گیانندرا فارغ کر دیے گئے۔ اس تحریک کی کامیابی کے بعد نیپال کو عوامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔

default

نیپال میں بادشاہت کے خلاف ماؤ نواز باغیوں کی مسلح تحریک میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت کے خلاف اس تحریک نے سن دو ہزار چھ میں پرتشدد کارروائیوں کے سلسلے کو ترک کر دیا تھا۔ ماؤنواز ملک میں منعقد ہونے والے پہلے انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے۔ اسی مسلح تحریک کے لیڈر پشپ کمل دہل عرف پراچنڈ جمہوریہ نیپال کے پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔

پشپ کمل ڈہل کو وزارت عظمیٰ کے دور میں سب سے بڑی پریشانی کا سامنا اپنے ہزاروں گوریلوں کا تھا، جن کو مختلف مقامات پر قائم کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ پشپ کمل ان کو نیپال کی فوج کا حصہ بنانا چاہتے تھے مگر ان کے دور اور پھر بعد میں بھی اس پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ اب تازہ حکومتی اتحاد کے تحت ان ہزاروں سابقہ باغیوں کو عملی زندگی کی طرف منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

Maoistenführer Prachanda in Katmandu vor der Wahl

نیپال کے سابقہ باغیوں کے لیڈر پراچنڈ، جو جمہوریہ نیپال کے پہلے وزیر بنے

عارضی کیمپوں میں مقیم انیس ہزار باغیوں کی فوج میں شمولیت اور گھروں کی جانب واپسی کے جامع پروگرام کا آغاز ہو گیا ہے۔ انیس ہزار سابقہ کمیونسٹ باغیوں میں سے کم از کم ساڑھے چھ ہزار کو نیپالی فوج میں شامل کیا جائے گا جب کہ بقیہ کو ایک معقول رقم کے ساتھ گھر بھیج دیا جائے گا تا کہ وہ اپنی عملی زندگی کا آغاز کر سکیں۔

گھر بھیجے جانے والے ہر ایک سابقہ باغی کو نو لاکھ نیپالی روپے دیے جائیں گے۔ حکومت کی جانب سے مقرر چیف مانیٹر بالندا شرما کے مطابق تمام سات کیمپوں میں مقیم باغیوں سے انٹرویو کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ ان باغیوں کو کیمپوں میں رہتے ہوئے پانچ سال گزر چکے ہیں۔ چیف مانیٹر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو یہ بتایا کہ ان باغیوں کی بحالی کا عمل انٹر ویو کا عمل مکمل ہونے کے بعد شروع ہو گا۔ کئی باغی آزاد زندگی کے طلب گار ہیں اور وہ واپس اپنے اپنے خاندانوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ فوج میں جو سابق باغی شامل کیے جائیں گے، انہیں جنگی مشن یا فائٹنگ فورس کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس