1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال کے سابق بادشاہ کی شاہی محل سے رُخصتی

شاہی محل سے گیا نندرا کی رُخصتی کے ساتھ نیپال کی تاریخ کا ایک طویل باب اختتام کو پہنچے گا۔ وہ سن دو ہزار ایک میں ولی عہد کے ہاتھوں اس وقت کے بادشاہ اور ان کے نصف خاندان کے قتل کے بعد تخت نشین ہوئے تھے۔

default

سابق نیپالی بادشاہ کو کبھی بھی خاص مقبولیت حاصل نہیں رہی۔

گیانندرا اپنی رعایا کی ہمدردی سے اس وقت محروم ہوگئے تھے جب تقریباً تین سال قبل ماٴو نواز باغیوں کے ساتھ خانہ جنگی کے دوران انہوں نے حکومت کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے تھے۔

ایک ممتاز سیاسی مبصر کانک مانی ڈکشٹ کے پاس اس اقدام کے لئے کوئی اچھے الفاظ نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بادشاہ کی وہ حماقت تھی جس نے نہ صرف انہیں بادشاہت سے محروم کیا بلکہ بادشاہت کا سلسلہ ہی ختم کردیا۔

تاہم اس وقت ہونے والے ملک گیر عوامی مُظاہروں نے بادشاہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ اس وقت سے ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ وہ یہ بازی ہارچکے ہیں۔ عبوری حکومت میں شمولیت کے لئے بادشاہت کے خاتمے کو ما:و نوازوں نے اپنی بنیادی شرط بتایا۔ رفتہ رفتہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی ان کی ہمنوا ہوگئیں۔