1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

نیپال میں ہم جنس پرستی کا موضوع سلور اسکرین پر

نیپال میں اِن دِنوں ہم جنس پرستی سلور اسکرین کا موضوع بنی ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں سِنے سمپوزیم فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی فلم ’شریر‘ کا چرچا ہے۔

default

سِنے سمپوزیم فلم فیسٹیول کٹھمنڈو میں منعقد کیا گیا، جس میں شائقین نے دو خواتین کے درمیان محبت کی کہانی پر مبنی اس فلم کا پریمیئر رواں ہفتے منگل کو دیکھا۔ اس فلم کا نام ‘شریر‘ یعنی جسم ہے۔ اس کے لیے ہدایات ابھیناش بِکرام شاہ نے دی ہیں جبکہ کہانی بھی انہوں نے تحریر کی ہے۔

اس میں دو خواتین سُمن اور چاہانا کی کہانی بیان کی گئی، جو اس وقت جدا ہو جاتی ہے ہیں جب کھٹمنڈو کی سڑکوں پر چاہانا کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ سُمن اپنی پارٹنر کو کھونے کے بعد کس کرب سے گزرتی ہے، کہانی کا مرکزی موضوع یہی ہے۔ فلیش بیک میں ان کی محبت بھی بیان کی جاتی ہے۔

چاہانا کی موت کے بعد سُمن شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کا سہارا لیتی ہے۔ سُمن کا کردار نبھانے والی پُوجا گورُنگ کہتی ہیں: ‘‘آپ کسی شخص، کتاب اور  کتے سے محبت کرتے ہیں، اور جس چیز کو آپ ٹوٹ کر چاہتے ہیں، وہ کھو جائے تو بہت دُکھ ہوتا ہے۔’’

انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کس سے محبت کرتے ہیں، یہ جذبہ ایک سا ہی ہوتا ہے۔ ہدایت کار شاہ کا کہنا ہے: ‘‘آپ اسے دو عورتوں کے درمیان محبت کی کہانی پر مبنی پہلی نیپالی فلم کہہ سکتے ہیں۔ لیکن میں جس وقت اس کا اسکرپٹ لکھ رہا تھا تو میں لَو اسٹوری بیان کر رہا تھا۔’’

BdT Pride March in Indien

پریمیئر کے موقع پر ہم جنس پرستوں کے ایک گروپ کے ارکان کی بھی بڑی تعداد شائقین میں شامل تھی

انہوں نے مزید کہا: ‘‘میں نے اس کہانی کا رُخ دو خواتین کے درمیان محبت کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر دوسروں نے طبع آزمائی نہیں کی تھی اور میں کچھ نیا کرنا چاہتا تھا۔‘‘

شاہ کہتے ہیں: ‘‘میں جب اس فلم پر کام کر رہا تھا، تو میں خوفزدہ تھا کہ لوگ اسے قبول نہیں کریں گے، لیکن شائقین نے اسے پسند کیا ہے۔‘‘ اس فلم کا پریمیئر دیکھنے کے لیے موجود شائقین میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی، جنہوں نے سُمن اور چاہانا کے درمیان پیار و محبت کے مناظر خاموشی سے دیکھے۔

پریمیئر کے موقع پر ہم جنس پرستوں کے ایک گروپ ‘بلو ڈائمنڈ سوسائٹی‘ کے ارکان کی بھی بڑی تعداد شائقین میں شامل تھی۔ نیپال میں دھیرے دھیرے ہم جنس پرستی کو قبول کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ وہاں کی عدالت عظمیٰ کا تین سال پہلے کا وہ فیصلہ ہے، جس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کو یقینی بنائے۔ اس کے باوجود وہاں کی اکثریتی ہندو آبادی ایسے موضوعات کے حوالے سے قدامت پسندانہ نظریات کی حامل ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : افسر اعوان