1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال میں پرتشدد جھڑپیں، درجنوں زخمی

کٹھمنڈو میں پولیس اور ماؤنواز مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان یہ جھڑپیں اتوار کے روز نیپالی دارالحکومت میں مختلف مقامات پر ہوئیں۔

default

مظاہرین نے اتوار کی صبح پولیس کے تمام تر ناکوں کو تہہ و بالا کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے سیکریٹیریٹ کی جانب بڑھنا شروع کر دیا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل فائر کئے گئے، جن کے جواب میں ماؤنوازوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ مظاہرین جس علاقے پر دھاوا بول رہے تھے، اس علاقے میں کئی ملکی وزراء کی رہائش گاہیں ہیں۔ اس موقع پر ماؤنوازوں نے راہگیروں کو زدوکوب کرنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی فورسز کی متعدد گاڑیاں بھی نذر آتش کر دیں۔

نیپالی پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق ان جھڑپوں میں 12 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ’’پولیس کی جانب سے شہریوں کی املاک کی حفاظت کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے باعث متعدد ماؤنواز بھی زخمی ہوئے ہیں۔‘‘

Demonstration in Katmandu Nepal trotz Ausgangsperre

پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس استعمال کی

گزشتہ روز ماؤنوازوں کی جانب سے کئی دنوں سے جاری ہڑتال کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا، تاہم ماؤنوازوں کا کہنا تھا کہ وہ حکومت پر اپنا دباؤ جاری رکھیں گے۔ نیپالی پارلیمان میں ماؤنوازوں کی سب سے زیادہ نشستیں ہونے کے باوجود وہاں دیگر جماعتوں نے ایک بڑےاتحاد کی صورت میں ایک وسیع تر مخلوط حکومت قائم کر رکھی ہے۔ ماؤنوازوں کا مطالبہ ہے کہ ملکی وزیراعظم مستعفی ہوں اور نئی حکومت میں ماؤنوازوں کو بھی شامل کیا جائے۔

شدید تر عوامی دباؤ میں آ کر اپنی ہڑتال ختم کرنے والے ماؤنوازوں نے کئی روز تک ملک بھر میں تمام تر نظام زندگی مفلوج رکھا۔ ماؤنوازوں نے ہڑتال کے خاتمے کے اعلان کے موقع پر کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ملک کو ایسے حالات کا شکار ہونے سے بچانا ہے، جن میں عوام ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو جائیں۔

ماؤنوازوں کی ہڑتال کے خاتمے کے بعد ملک بھر میں ایک مرتبہ پھر کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہوا ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ہمیشہ تشدد کی دھمکی دے کر اپنے مطالبات منوانے والی ماؤنواز جماعت کے لئے عوامی دباؤ میں آ کر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرنا اس پارٹی میں جاری اصلاحات کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM