1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال میں نئے مجوزہ آئین کے خلاف پر تشدد مظاہرہ، نو ہلاک

نیپال میں نئے مجوزہ آئین کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران آج پیر کے روز کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تشدد کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب مظاہرین نے چاقوں، کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے پولیس والوں پر حملہ کر دیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے نیپال کے سرکاری ٹیلی وژن کے حوالے سے بتایا ہے کہ نیپال حکام نے بھارتی سرحد کے قریب ملک کے مغربی علاقے میں مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا ہے۔ تکاپور نامی شہر میں ہزاروں افراد حکومت کے اس مجوزہ آئین کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس میں ملک کو مختلف صوبوں میں تقسیم کر دیا جانا ہے۔ اس آئین کی تکمیل رواں ماہ متوقع ہے۔

کیلالی ضلع میں تکاپور کا قصبہ بھی آتا ہے، چیف ایڈمنسٹریٹر راجکمار شریستھا کے بقول مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کی اور حکومتی عمارات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا: ’’نو لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے چھ پولیس اہلکار جبکہ تین مظاہرین ہیں۔

شریستھا نے سرکاری ٹیلی وژن پر بتایا کہ مظاہرین نے مختلف تیز دھار ہتھیاروں سے پولیس اہلکاروں پر حملے کیے۔ بھارتی سرحد کے قریب والی شہر کیلالی نیپال کے انتہائی مغربی حصوں میں شامل ہے اور دارالحکومت کھٹمنڈو سے قریب 432 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ نیپال کی چند اہم ترین سیاسی جماعتوں نے ملک کے نئے دستور پر اتفاق کیا تھا، جس میں نیپال میں صوبوں کے قیام پر اتفاق بھی شامل ہے، تاہم بعض چھوٹے دھڑے اور گروہ اس تقسیم کے خلاف میدان میں نکلے ہوئے ہیں۔

نیپال میں رواں برس آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں نہ صرف 8900 افراد ہلاک ہو گئے تھے بلکہ ملکی انفراسٹرکچر بھی کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا

نیپال میں رواں برس آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں نہ صرف 8900 افراد ہلاک ہو گئے تھے بلکہ ملکی انفراسٹرکچر بھی کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا

اس مجوزہ دستور کےمطابق کیلالی ضلع انتہائی مغربی پہاڑی علاقوں پر مشتمل ایک صوبے کا حصہ بنے گا جبکہ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اسے آٹھ اضلاع پر مشتمل جنوب مغربی میدانی علاقوں پر مشتمل صوبے کا حصہ بنایا جائے۔

نیپال حکومت اور دیگر اہم سیاسی جماعتوں کو امید ہے کہ نیا آئین جس کے تحت ملک کو سات صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، ملک میں معاشی ترقی کا باعث بنے گا۔ یاد رہے کہ نیپال میں رواں برس آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں نہ صرف 8900 افراد ہلاک ہو گئے تھے بلکہ ملکی انفراسٹرکچر بھی کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا اور یہ ریاست ابھی تک اس مشکل صورتحال سے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔