1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال میں مظاہروں کا مسلسل تیرہواں دِن

نیپال میں سات سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی اپیل پر گذشتہ کوئی دو ہفتوںسے جاری عام ہڑتال اور مظاہروں کی وجہ سے کاروبارِ زندگی مفلوج ہے۔ شاہ گیانیندرا کے خلاف جاری اِن مظاہروں میں اب اور زیادہ شدت آتی جا رہی ہے۔

default

کل جنوبی نیپال میں ایک مظاہرے میں شریک شخص کی موت کے ساتھ اب تک مرنے والوں کی تعداد پانچ تک پہنچ گئی ہے، سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ آج منگل کے روز ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ مغربی نیپال کے شہر نیپال گنج میں ہوا، جس میں ایک بین الاقوامی امدادی کارکن کے اندازے کے مطابق بیس ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے جبکہ ایک مقامی صحافی جانک پانڈے کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ تعداد اِس سے کہیںزیادہ تھی۔ اِس صحافی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کو یہ بھی بتایا کہ شروع میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے، ہوائی فائرنگ بھی کی لیکن پھر مظاہرین کے مقابلے میں کہیں کم نفری ہونے کی بناء پر پولیس کے سپاہی پیچھے ہَٹ گئے۔

اُدھر دارالحکومت کٹھمنڈو میں پولیس نے وَزارتِ داخلہ سے تعلق رکھنے والے 25 سرکاری ملازمین کو شاہ گیانیندرا کے خلاف مظاہرے میں شرکت پر گرفتار کر لیا۔ سات سیاسی جماعتوںکے اتحاد کی طرف سے کہا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے عاید پابندی کے باوجود آئندہ جمعرات کو مجوزہ بڑے احتجاجی مظاہرے میں لوگ ضرور شرکت کریں گے۔ کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے ایک رہنما یوگیش بھٹا رائے کا کہنا تھا کہ اُس روز اُن کا اتحاد کوئی پانچ لاکھ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اب غیر ملکی سفارت کار بھی شاہ گیانیندرا پر زور دینے لگے ہیں کہ حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کیلئے اُنہیں اس سارے معاملے کو کسی نہ کسی طرح سے ختم کرنا چاہیے۔ ایک سرکردہ مغربی سفارت کار کے مطابق شاہ کےلئے اُن کا یہی پیغام ہے کہ اُن کے پاس اب زیادہ وقت باقی نہیں رہا، اُنہیں آگے بڑھنا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔

کل پیر کے روز دو سابق وزرائے اعظم کرِشنا پرشاد بھٹارائے اور سُوریا بہادر تھاپہ نے شاہ گیانیندرا کے ساتھ ملاقات کی لیکن اُن دونوں کا کہنا تھا کہ شاہ گیانیندرا اتنی آسانی سے اپنے اختیارات سے دستبردار نہیں ہونگے۔

شاہ گیانیندرا نے جس طرح سے جمہوریت کا بوریا بسترگول کرتے ہوئے تمام تر اختیارات اپنے ہاتھ میں لئے ہیں، اُس پر نیپال کا بڑا ہمسایہ ملک بھارت خوش نہیں ہے۔ اب بھارت نے اپنے ایک مندوب یعنی جموں و کشمیر کی ریاست کے آخری فرماں روا کے بیٹے کرن سنگھ کو نیپال روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کل بدھ کے روز نیپالی فرماں روا کے ساتھ ساتھ وہاں کی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے ساتھ بھی ملاقات کرینگے۔ ایک بیان میں کرن سنگھ نے کہا کہ بھارت نیپال کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا لیکن اب نیپال میں حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔