1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال میں مسیحی قبرستانوں کے قیام کے لیے بڑا مظاہرہ

نیپال میں آج بدھ کو سینکڑوں کی تعداد میں مسیحی اقلیت سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین مسیحی آبادی کے لیے کافی تعداد میں قبرستانوں کی دستیابی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

default

کٹھمنڈو میں ایک مندر کے باہر بیٹھے دو ہندو سادھو

نیپال کی آبادی میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ چند سال پہلے تک یہ ملک دنیا کی واحد ہندو بادشاہت تھا۔ اس ملک میں مسیحی اقلیتی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ مذہبی اقلیت زیادہ تر دارالحکومت کٹھمنڈو میں رہتی ہے۔ لیکن نیپالی مسیحی برادری کو اپنے انتقال کر جانے والے ارکان کی تدفین کے لیے زیادہ امکانات میسر نہیں۔ خاص طور پر اس وقت سے جب سے انہیں اس مقصد کے لیے ایک ہندو مندر کے قریب ہی واقع گراؤنڈ استعمال کرنے سے باقاعدہ طور پر روکا جا چکا ہے۔

Nepal Kathmandu Straßenszene

کٹھمنڈو کی ایک سڑک پر گشت کرنے والے نیپالی فوج کے سپاہی، فائل فوٹو

نیپالی کرسچین کمیونٹی کےجنرل سیکریٹری سی بی گاہت راج نے اس احتجاجی مظاہرے کے موقع پر کہا کہ ان کی برادری کے 36 افراد تب تک ہر ورز بھوک ہڑتال کریں گے جب تک کہ حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر لیتی۔ اس مظاہرے کے دوران شرکاء نے ایک خالی تابوت اٹھا کر کٹھمنڈو میں مارچ بھی کیا۔ تابوت اس بات کی علامت تھا کہ نیپال میں مسیحی آبادی کے پاس اپنے انتقال کر جانے والے ارکان کو دفنانے کے لیے کافی جگہ نہیں ہے۔ اس دوران کئی دیگر مذاہب کے پیروکار نیپالی بھی مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اس احتجاج میں شامل ہو گئے۔

مظاہرے کے دوران شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سی بی گاہت راج نے کہا کہ نیپالی مسیحی آبادی نے آج خالی تابوت کے ساتھ احتجاجی مارچ کیا ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نے اگلے تین دنوں میں ملک میں کرسچین اقلیت کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو پھر نیپال میں انتقال کر جانے والے کرسچین شہریوں کی لاشوں کے ساتھ کٹھمنڈو میں پارلیمان کے سامنے احتجاجی مارچ کیے جائیں گے۔

نیپال کی تیس ملین کی آبادی میں ہندوؤں کا تناسب 86 فیصد بنتا ہے اور ہندو اپنے انتقال کر جانے والے عزیزوں کی لاشوں کو جلا دیتے ہیں۔ اسی لیے نیپال میں سماجی طور پر یہ روایت کم دیکھنے میں آتی ہے کہ مردوں کو دفنایا بھی جائے۔ ہندوؤں کے برعکس مسلمان اور کرسچین مردوں کو دفناتے ہیں اور اسی لیے نیپالی مسیحی باشندے حکومت سے کرسچین قبرستانوں کے لیے جگہوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نیپال میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسیحی اقلیت کی مجموعی آبادی سن 2007 میں پانچ لاکھ بنتی تھی۔ ایک نیپالی مسیحی تنظیم کے مطابق اب یہ تعداد 1.2 ملین بنتی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس