1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نیپال میں ماؤنوازوں کی ہڑتال بالآخر ختم

نیپال میں ماؤنوازوں نے گزشتہ کئی روز سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ماؤنوازوں کی اس ہڑتال کے باعث ملک بھر میں کاروباری زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔

default

ماؤنوازوں نے اعلان کیا ہے کہ ہڑتال کے خاتمے کے باوجود وزیراعظم پر مستعفی ہونے کے لئے دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ پارلیمان میں ماؤ نواز پارٹی کی اکثریت کے باوجود وہاں دیگر جماعتوں کے اتحاد سے ایک مخلوط حکومت قائم ہے اور ماؤنواز اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ اُسے حکومت میں شریک کیا جائے۔

نیپال میں کئی دنوں سے جاری مظاہروں میں گزشتہ ہفتے اس وقت سے شدت آ گئی، جب ماؤنوازوں نے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ہڑتال کر کے تمام کاروباری سرگرمیاں منجمد کر دیں۔ اس موقع پر تمام دکانیں، ذرائع آمد و رفت، اسکول اور دفاتر بند رہے۔ مظاہرین نےکٹھمنڈو کی سڑکوں پر ڈنڈے لہراتے اور انقلابی نعرے لگاتے ہوئے مارچ کیا اور ایک طرح سے کرفیو نافذ کر دیا۔

Generalstreik Nepal Maoisten

ماؤنوازوں کی اس ہڑتال سے نیپال بھر میں کاروباری زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا

ماؤنوازوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اس ہڑتال کے دوران صرف ایمبولینسوں، شہر کی صفائی پر مامور عملے اور کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری کے لئے گھروں سے باہر نکلنے والے شہریوں کو کوئی زک نہیں پہنچائیں گے۔ تاہم عام شہری صرف شام کے اوقات میں دو گھنٹوں کے لئے ہی گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں۔ اس ہڑتال کے باعث ماؤنوازوں کوعام شہریوں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا بھی تھا۔

نیپال میں ماؤ نوازتقریباً دس برس تک حکومت کے خلاف جنگ کے بعد سن 2008ء میں ایک امن معاہدے کے تحت قومی دھارے میں شامل کئے گئے تھے اور انہیں آٹھ ماہ تک ملک پر حکومت کرنے کا موقع بھی ملا تھا۔

دوسری جانب ماضی میں تقریباً دس برس تک ماؤ نواز باغیوں کی قیادت کرنے والے پشپا کمار داہل نے کہا ہے کہ ہڑتال کے خاتمے کا اعلان صرف عام شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کے باعث کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ نئی حکومت کا قیام ناگزیر ہے۔ پراچندہ کے نام سے پہچانے جانے والے داہل کی قیادت میں نیپال میں دس برسوں تک جاری رہنے والی بغاوت میں تقریباً 16 ہزار افراد مارے گئے تھے۔ گزشتہ برس مئی میں پراچندہ کی حکومت اس وقت گرا دی گئی تھی، جب انہوں نے بحیثیت وزیراعظم فوجی سربراہ کو برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ملکی صدر نے ان کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ان کی حکومت ہی ختم کر دی تھی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک

DW.COM