1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نیپال میں سیاسی بحران گہرا ہوتا ہوا

کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع جمہوریہ نیپال میں گزشتہ تین روز کی احتجاجی ہڑتال سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے ہیں۔ دارالحکومت کھٹمنڈو میں اشیاء خوردو نوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

default

مخلوط حکومت اور ماؤ نوازوں کی نمائندہ جماعت کے درمیان بات چیت کا عمل بے نتیجہ رہنے سے نیپال میں سیاسی کشیدگی بڑھنے لگی ہے۔ ماؤسٹ پارٹی نیپال کے ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے۔ مذاکراتی عمل کے مسلسل ناکام رہنے کے باوجود مخلوط حکومت کے وزیر اعظم مادو کمار کو یقین ہے کہ سیاسی تعطل کے ختم ہونے کی چابی بات چیت کے عمل میں ہی پوشیدہ ہے۔

کھٹمنڈو میں کشیدگی بڑھنے کی ایک وجہ وہاں مخلوط حکومت کے حامیوں کا پہنچنا بھی بتایا جا رہا ہے۔ پورے ملک میں ماؤسٹ پارٹی کی مسلسل ہڑتال

Generalstreik Nepal Maoisten

عام ہڑتال کے دوران ایک جلسے کے شرکاء

کے باعث کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ماؤ نواز حکومت کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہڑتال کے دوران اس جماعت کے کارکنوں نے ہڑتال پر عمل نہ کرنے والوں کو ڈرایا دھمکا بھی ہے۔

کھٹمنڈو شہر میں ماؤسٹ پارٹی کے سینیئر رہنما اگنی سپ کوٹا نے ایک بڑے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت اور کارکن کامیابی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ عوامی خواہشات کے خلاف حکومت بدستور اپنی ناکامیوں کے باوجود اقتدار پر براجمان ہے۔

دوسری جانب ماؤسٹ پارٹی کے معروف رہنما پشپ کمل ڈہل نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ہڑتال کے ختم ہونے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ نیپال کا سیاسی بحران گزشتہ ایک سال سے جاری ہے۔ پچھلے سال مئی کے مہینے کے دوران جمہوریہ بننے والے اس ملک کے پہلے وزیر اعظم پشپ کمل ڈہل کو صدر کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ ڈہل نے ہی ایک دہائی تک نیپالی بادشاہت کے خلاف پرتشدد تحریک جاری رکھی تھی۔

Generalstreik Nepal Maoisten

عام ہڑتال کے دوسرے دن ماؤسٹ پارٹی کا کارکن سکیورٹی اہلکاروں کی جانب بانس کی چھڑی پھینکتا ہوا،

مبصرین کا خیال ہے کہ بحران کی وجہ سے جمہوری عمل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس کا ایک ممکنہ امپیکٹ دستور کی منظوری میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ نئے دستور کی منظوری کے لئے اٹھائیس مئی کی تاریخ مقرر ہے۔ اس مقررہ وقت تک دستور کو منظور کروانا ضروری ہے۔ یہ تاریخ حکومت اور ماؤ نوازوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مزید تقویت اور دوام کا باعث بن سکتی ہے، لیکن اس کی منظوری کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔

ادھر بائیں بازو کے اعتدال پسند وزیر اعظم مادو کمار نیپال نے مستعفی ہونے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ ان کا اب بھی اصرار ہے کہ حکومت ہڑتالی سیاسی جماعت کے ساتھ معاملات کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اور بحران کا حل ڈھونڈ نکالا جائے گا۔ نیپالی وزیر اعظم کا مزید کہنا ہے کہ سٹریٹ مظاہروں سے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ غیر جواز ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق لوگ دکانیں کھولنا چاہتے ہیں، اپنے اپنے کام پر جانے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن وہ خوف کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔ نیپالی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ حکومت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی، جو مظاہرین کے اندر اشتعال پیدا کرنے کا باعث بنے۔

دریں اثناء نیپال کے اندر ہڑتال کی وجہ سے اشیائے خوردو نوش کی شدید قلت پیدا ہونے لگی ہے۔ دارالحکومت سارے ملک سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ اس ہڑتال کی وجہ سے اندرون ملک پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہو چکا ہے۔ مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے غیر ملکی سیاحوں کو ہنگامی بنیادوں پر نکالنے کی حکومتی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM