1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال میں سابقہ باغیوں کی فوجی کمان حکومت کے حوالے

نیپال میں قیام امن کے عمل میں ایک اور بڑا مرحلہ طے کر لیا گیا ہے۔ ملک میں ماؤنواز باغیوں کی انیس ہزار ارکان پر مشتمل فوج کی کمان باقاعدہ طور پر ایک خصوصی حکومتی کمیٹی کے حوالے کر دی گئی ہے۔

default

عبوری وزیر اعظم مادھو کمار

اس سلسلے میں ایک تقریب ریاستی دارالحکومت کٹھمنڈو سے ایک سو دس کلومیٹر کے فاصلے پر چتوان نامی شہر میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں ان سابقہ باغیوں پر مشتمل فوج کی کمان حکومت کے حوالے کرنے سے متعلق ایک دستاویز پر دستخط نیپال کی متحدہ ماؤ نواز کمیونسٹ پارٹی کے چیئر مین پشپا کمار ڈاہل اورملک کے عبوری وزیر اعظم مادھو کمار نے کیے۔

اس تقریب کے بعد قائم مقام نیپالی وزیراعظم نے ان سابقہ نیپالی باغیوں کے اجتماع میں نیپال کا قومی پرچم بھی لہرایا۔ یہ اس بات کی علامت تھا کہ ماضی میں ملکی فوج کے ساتھ خونریز جھڑپوں میں حصہ لینے والے یہ کئی ہزار مسلح عسکریت پسند اب باغی نہیں رہے بلکہ ایک فوج کے طور پر ان کی کمان اب کٹھمنڈو حکومت کو منتقل ہو گئی ہے۔

Pushpa Kamal Dahal

متحدہ ماؤ نواز کمیونسٹ پارٹی کے چیئر مین پشپا کمار ڈاہل

اس موقع پر اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار سیموئل ٹامراٹ نے کہا کہ یہ پیش رفت ایک ریاست کے طور پر نیپال کے لیے بڑی مثبت تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کے ان سابقہ باغیوں کی کمان حکومت کے حوالے کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ملک میں قیام امن کے عمل کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

نیپال میں ان سابقہ جنگجو افراد کا مستقبل اور ان کی حیثیت سن 2006 ء میں، اس وقت سے ماو نواز لیڈروں کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بنی ہوئی تھی، جب ہمالیہ کی اس ریاست میں ایک عشرے سے جاری گوریلا جنگ ختم ہوئی تھی۔

یہ اسی تبدیلی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا کہ نیپال میں ماؤ نواز باغیوں کی قیادت کو اپنی ایک سیاسی جماعت بنا کر ملکی سیاست میں شمولیت کا موقع ملا تھا۔ پھر وہ نہ صرف ایک نئے ملکی آئین کی تیاری بلکہ نیپال سے بادشاہت کے خاتمے کے عمل میں بھی پوری طرح شریک رہے تھے۔

Proteste in Nepal

اس نئی پیش رفت سے نیپال میں قیام امن کی کوششوں میں بہتری پیدا ہو گی

نیپال میں گزشتہ چھ مہینوں سے مختلف سیاسی جماعتوں کے مابین یہ اتفاق نہیں ہو سکا کہ ملکی وزیر اعظم کون ہو گا۔ اسی لیے وہاں ابھی تک ایک قائم مقام حکومت کام کر رہی ہے۔ اب ان سابقہ باغیوں کو ایک خصوصی حکومتی کمیٹی کی کمان میں تو دے دیا گیا ہے، تاہم چند ایک اہم موضوعات ابھی بھی حل طلب ہیں۔

ان میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ ان سابقہ ماؤ نواز باغیوں کو کن شرائط پر موجودہ ملکی فوج میں شامل کیا جائے گا۔ ایک دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان ہزار ہا سابقہ عسکریت پسندوں کو کس طریقہء کار کے تحت معمول کی معاشرتی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔

ماضی کے ان مسلح گوریلوں میں سے ایک، جس کا نام سرجن اور عمر ستائیس برس ہے، نے کہا کہ اس کی اور اس کے تمام ساتھیوں کی مکمل بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام جلد از جلد عمل میں آنا چاہیے۔ اس نے کہا کہ یہی وہ تبدیلی ہے جس کا وہ اور اس کے ساتھی گزشتہ چار سال سے بھی زیادہ عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس