1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال میں زلزلے کے ایک برس بعد بھی کچھ نہ بدلا

نیپال میں تباہ کن زلزلے کا ایک برس مکمل ہونے پر اس جنوبی ایشیائی ملک میں خصوصی یادگاری تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس زلزلے کے نتیجے میں ملک بھر میں ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہو گئے تھے۔

نیپال میں گزشتہ برس 7.8 کی شدت کا یہ زلزلہ پچیس اپریل کو آیا تھا تاہم نیپالی کلینڈر کے مطابق اس کا ایک برس آج چوبیس اپریل بروز اتوار مکمل ہوا۔ اس مناسبت سے دارالحکومت کھٹمنڈو میں مرکزی یادگاری تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں وزیر اعظم کے پی شرما اولی بھی شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں بہت سے حکومتی اہلکاروں کے علاوہ عوام کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں جمع تھی۔

DW.COM

شرما اولی نے آج دارالحکومت کھٹمنڈو میں منہدم ہو جانے والے تاریخی دھرارا ٹاور کی باقیات پر پھولوں کا گلدستہ رکھا اور ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس زلزلے کے نتیجے میں صرف اسی ٹاور کے انہدام کے باعث 132 افراد مارے گئے تھے۔ مجموعی طور پر اس قدرتی آفت کے نتیجے میں نو ہزار افراد لقمہ اجل بنے تھے۔

بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس کے اعداد و شمار کے مطابق اس زلزلے نے تقریبا چار ملین شہریوں کو بے گھر بھی کر دیا تھا، جن میں سے ایک بڑی تعداد آج بھی عارضی پناہ گاہوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ ٹریکنگ گائیڈ گووند تِملسینہ نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تین برس قبل جب ان کا گھر تباہ ہو گیا تھا، تب سے ان کی زندگی انجماد کا شکار ہے۔

گووند کے مطابق وہ ابھی تک اپنا گھر نہیں بنا سکے ہیں کیونکہ حکومت کی طرف سے متاثرین کو امدادی رقوم فراہم کرنے کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امداد کے بغیر وہ دوبارہ اپنا گھر نہیں بنا سکتے، ’’حکومتی ضوابط انتہائی پیچیدہ ہیں۔ ہم خوفزدہ ہیں کہ اگر ہم نے خود ہی گھر کی تعمیر شروع کر دی تو ہمیں امدادی رقم نہیں ملے گی۔‘‘ وہ آج کل اپنی والدہ، اہلیہ اور تین بچوں کے ہمراہ ایک کمرے والے کرائے کے ایک مکان میں رہائش پذیر ہیں۔

اس قدرتی آفت کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی امدادی اداروں نے نیپال کو 4.1 بلین ڈالر کی رقوم مہیا کرنے کا عہد کیا تھا لیکن ہمالیہ کے سلسلہ کوہ میں واقع اس ملک کے سیاستدانوں میں شروع ہونے والی سیاسی رسہ کشی اور فنڈز کی تقسیم پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین کو مناسب امداد موصول نہیں ہو سکی ہے۔

اسی مناسبت سے کھٹمنڈو میں جب اتوار کو یادگاری تقریب کا اہتمام کیا گیا تو سیاہ لباس میں ملبوس بیس زلزلہ متاثرین نے حکومت کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ انہوں نے اس تباہی کے بعد حکومتی نااہلی اور سست ردعمل کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

تین بچوں کی ماں نائپت نے اے ایف پی کو بتایا، ’’اگر مدد نہیں ملتی تو میں زندگی بھر اپنے گھر کی تعمیر نہیں کر سکوں گی۔‘‘ یہ خاتون بھی اپنے بچوں کے ساتھ ایک کمرے کے مکان میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ نائپت کے بقول اسے اب تک امداد کی مد میں صرف ڈیڑھ سو ڈالر ملے ہیں۔

اس زلزلے کی وجہ سے نیپال بھر میں بارہ سو طبی مراکز کو نقصان پہنچا تھا جبکہ آٹھ ہزار سے زائد اسکول تباہ ہو گئے تھے یا غیر محفوظ قرار دے دیے گئے تھے۔ اس لیے نیپال میں اس وقت نہ صرف بنیادی طبی سہولیات کے مسائل پیدا ہو چکے ہیں بلکہ ساتھ ہی بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی حصول تعلیم سے محروم ہو چکی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق طویل انتظار کے بعد ایک لاکھ دس ہزار گھرانے غیر محفوظ مکانات میں منتقل ہو چکے ہیں، جو کسی نئے زلزلے کی نتیجے میں بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کنبوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اسی طرح اکتیس ہزار متاثرین نے اپنی مدد آپ کے تحت ہی اپنے مکانات کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے۔

DW.COM