1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال: ماؤ نواز رہنما نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا

کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤ نواز) کے رہنما بابو رام بھٹارائے نے پیر کے روز وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

default

ستاون سالہ بابورام بھٹارائے اپنی جماعت کے اہم رہنما ہیں

سابق ماؤ نواز باغیوں کی تنظیم کے نائب سربراہ اتوار کے روز ملکی پارلیمنٹ سے اکثریتی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اب وہ چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ بابو رام نے بیجایا گچھیدار کو نائب وزیر اعظم  اور وزیر داخلہ مقرر کر دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ کابینہ کے مزید وزراء کے ناموں پر غور کر رہے ہیں۔

نیپال اس وقت شدید سیاسی اور آئینی مشکلات کا شکار ہے۔ پیر کے روز آئین ساز اسمبلی نے اپنی مدت میں تین ماہ کے اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس اسمبلی کا کام نیپال کا آئین مرتب کرنا ہے، جو کہ سن دو ہزار آٹھ سے تعطل کا شکار ہے۔ یہ اسمبلی پارلیمنٹ کا کام بھی کرتی ہے حالانکہ اس کا اصل کام آئین سازی ہے۔

Generalstreik Nepal Maoisten

نیپال سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے

ستاون سالہ بابورام بھٹارائے اپنی جماعت کے اہم رہنما ہیں۔ ماؤ باغی سن دو ہزار چھ تک بادشاہت کے خاتمے اور ملک میں سیاسی اصلاحات کے لیے حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے رہے تاہم اس کے بعد وہ قومی دھارے میں شامل ہو گئے تھے۔ دو ہزار آٹھ کے پارلیمانی انتخابات میں ماؤ نوازوں کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔

نئے وزیر اعظم کی توجہ اب آئین سازی اور ملک میں امن کے قیام پر ہوگی۔ ہزاروں کی تعداد میں سابق ماؤ نواز جنگجو اب بھی کیمپوں میں ہیں اور اپنی قسمت کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ نیپال کی بہت سی جماعتیں ان سابق جنگجؤں کی ملکی فوج میں شمولیت کے حق میں نہیں ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف نتوقیر   

 

DW.COM