1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال لاپتہ افراد کی تلاش کی کوشش کرے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ اور نیپال کے انسانی حقوق کمیشن نے حکومت سے مشترکہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیپال میں تقریبا ایک دہائی تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران لاپتہ ہو جانے والے افراد کی تلاش کا کام سرانجام دے۔

default

نیپال کے نئے وزیراعظم

نیپال میں خانہ جنگی تقریبا پانچ برس قبل اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے تاہم اب تک برسوں جاری رہنے والی مسلح تحریک اور حکومتی کارروائیوں کے دوران لاپتہ ہو جانے والے افراد کو سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

نیپال میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر اور انسانی حقوق کے قومی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ وہاں خانہ جنگی کے دوران ہزاروں افراد لاپتہ ہوئے تھے۔ بیان میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ اب بھی 835 ایسے افراد ہیں، جن کا کچھ اتہ پتہ نہیں۔

Puspha Kinder in Kathmandu

سینکڑوں خاندان اپنے پیاروں کے منتظر ہیں

اقوام متحدہ اور قومی کمیشن کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ اور احباب اب بھی ان افراد کے گھر لوٹنے کے منتظر ہیں۔ خانہ جنگی کے اختتام پر حکومت میں آنے والے تمام رہنماؤں نے بار بار اپنے وعدے دہرائے کے لاپتہ افراد کا پتہ  چلایا جائے گا، تاہم اس سلسلے میں زیادہ کارگزاری دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس سے قبل ملکی عدالت عظمیٰ نے بھی حکومت کو احکامات دیے تھے کہ مجرمانہ بنیادوں پر سینکڑوں افراد آج بھی مختلف گروہوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں، جن کی بازیابی کے لیے قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو ایک آزاد اور خودمختار انکوائری کمیشن کے قیام کی بھی ہدایات دی گئی تھیں۔

پیر کے روز منتخب ہونے والے وزیراعظم بابورام بھٹہ رائے یا ان کے دفتر کی جانب سے اس مطالبے کے جواب میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ بھٹہ رائے نے فی الحال اپنے نائب کا اعلان کیا ہے جب کہ انہوں نے اپنے انتخاب کے وقت کہا تھا کہ وہ کابینہ کے لیے وزراء کے ناموں کا اعلان بعد میں کریں گے۔

رپورٹ:  عاطف توقیر

ادارت:  شامل شمس

 

DW.COM