1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نیپالی وزیر اعظم کی آخری رسومات اتوار کے دن

مشہور سیاستدان گیریج پرشاد کوئرالا طویل علالت کے بعد ہفتے کے دن انتقال کر گئے ہیں۔ اُن کا سیاسی کیرئر نہ صرف سات دہائیوں پر مشتمل تھا بلکہ وہ نیپالی سیاسی بساط پر کئی برسوں تک غیر معمولی طور پر متحرک دکھائی دئے۔

default

گیریج پرشاد کوئرالا کی عمر چھیاسی برس تھی

نیپال کے معروف سیاستدان گیریج پرشاد کوئرالا کی رحلت کے بعد اتوار کو اُن کی آخری رسومات نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے پشپ متی ناتھ ہندو مندر میں ادا کی جا رہی ہیں۔ کھٹمنڈو کے نیشنل سٹیڈیم میں اُن کی لاش کو آخری دیدار کے لئے رکھا گیا ہے۔ وہ کئی سال عارضہ قلب کے علاوہ سانس کی بیماری میں مبتلا رہے۔ اُن کی بیٹی سجاتا کوئرالا آج کل نیپال کی نائب وزیر اعظم ہیں۔

وہ نیپال کے اندر مختلف حوالوں سی ملکی سیاست میں فعال کردار کرنے میں کامیاب رہے۔ وہ نیپالی کانگریس پارٹی کے پلیٹ فارم سے وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچے۔ انہوں نے اس پارٹی کی اُس وقت بھی قیادت کی جب وہ شاہ گیانندرا کے خلاف جمہوریت کی تحریک چلائے ہوئے تھی۔ یونین لیڈر کے طور پر سیاسی کیرئر شروع کرنے والے نوجوان سیاستدان نےجمہوری اقدار کے فروغ کی خاطر کئی بار جیل بھی کاٹی۔

سن 1960ء میں وہ آٹھ سال تک جیل میں مقید رکھے گئے۔ رہائی کے بعد، سن 1973ء میں انہوں نے بھارت جا کر جلاوطنی کی زندگی گزارنا شروع کر دی تھی۔ ستر سالوں پر پھیلے سیاسی کیرئیر میں وہ مختلف ادوار میں وزیر اعظم بھی رہے۔

وہ سن 1991ء میں شاہ کی جانب سے کچھ جمہوری آزادیوں کے بعد پہلے جمہوری انتخابات میں کامیاب ہوئے اور پہلی بار وزیر اعظم بنے۔ تب اُن کی حکومت صرف تین برس قائم رہی اور وہ تحریک عدم اعتماد کے باعث منصب سے فارغ ہو گئے تھے۔

Girija Prasad Koirala Porträtfoto

سن 1940ء میں گیریج پرشاد کوئرالا سیاسی منظر نامے پر ابھرے

گزشتہ صدی کی آخری اور موجودہ دہائی نیپال میں سیاسی عدم استحکام سے عبارت رہی۔ گزشتہ دہائی میں نو مختلف حکومتیں کھٹمنڈو میں قائم ہوئیں۔ کل ملا کر گزشتہ بیس سالوں میں مختلف اٹھارہ حکومتیں اقتدار کے ایوان میں داخل ہوئیں۔ اِن تمام حکومتوں میں کہیں نہ کہیں کوائرلا کی ذات موجود تھی۔

آخری بار اُن کو شاہ گیانندرہ نے سن 2006ء کی زوردار عوامی تحریک کے تناظر میں ملک کا وزیر اعظم نامزد کیا تھا۔ اُن کے اِسی دور میں نیپالی بادشاہ کے لامحدود اختیارات کو پابند کیا گیا اور بعد میں قانونی ترمیم کے بعد اُن کو آمرانہ اقتدار سے ہمیشہ کے لئے فارغ کردیا گیا۔

اسی دور میں وہ جمہوریت کی پرتشدد تحریک چلانے والے ماؤ نواز باغیوں سے بھی حتمی امن معاہدہ کرنے میں کامیاب رہے۔ وہ اُس وقت بھی وزیر اعظم تھے جب شاہ بریندرا اور اُن کے خاندان کے دس افراد کو اُن کے بیٹے نے نشے کی حالت میں قتل کردیا تھا۔ اس مناسبت سے وہ نیپال کی اندرونِ خانہ کئی حقیقتوں سے یقینی طور پر آشنا تھے۔ اُن کو سیاسی جوڑتوڑ کا بھی ماہر خیال کیا جاتا تھا۔

اُن کی رحلت سے نیپال ایک ماہر اور بزرگ سیاستدان سے محروم ہو گیا ہے۔ نیپالی سیاسی معاشرے میں اُن کی سیاسی دانش کے سبھی معترف تھے۔ نیپالی کانگریس پارٹی کے مطابق اُن کے بڑے سیاسی قد کی وجہ سے اُن کی چھاپ برسوں تک قائم رہے گی۔ وہ ایک عوامی لیڈر کے طور پر تسلیم کئے جاتے تھے۔ ملک کے اندر اور باہر نیپال کے ہزاروں باشندے اُن کی موت پر سوگوار ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے بھی تعزیتی بیانات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM